نائجیریا کی خیمہ بستی میں خود کش حملہ 56 ہلاک

،تصویر کا ذریعہAP
نائجیریا کے شمال مشرق میں شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی کارروائیوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کے ایک امدادی کیمپ پر خود کش حملے میں کم سے کم 56 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
دھماکے کرنے والی دونوں خواتین خود کش بمبار تھیں اور انھوں نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب لوگ راشن کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔
برونو ریاست میں قائم اس کیمپ پر ہونے والے میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہلاک ہوئے۔
نائجیریا کی فوج ریاست ان عسکریت پسندوں سے آزاد کروانے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے ایسے میں بوکو حرام کے شدت پسند شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس گروہ کی جانب سے چھ سال قبل شروع کی گئی بغاوت کے باعث اب تک کم سے کم 20000 افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
حملے کا نشانے بننے والے ڈیکوا کیمپ میں کم سے کم 50000 افراد مقیم ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یہ حملہ منگل کی صبح کیا گیا جبکہ اب اس کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ ایک مقامی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں کم سے کم 67 افراد زحمی بھی ہوئے ہیں۔
ریاست برونو کے ایک اعلی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بموں سے لیس تین خواتین خیمہ بستی میں داخل ہوئی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول تیسری خاتون نے اس وقت خود کو حکام کے حوالے کر دیا جب اس نے یہ دیکھا کہ کیمپ میں اس کے اپنے والدین اور بہن بھائی بھی مقیم ہیں۔
گذشتہ برس نائجیریا ، کیمرون اور چاڈ سمیت متعدد ریاستوں نے شمال مشرقی نائجیریا کو بوکو حرام کے قبضے سے چھڑانے کے لیے فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔







