نائجیریا میں خواتین کے خودکش بم دھماکے، 50 ہلاک درجنوں زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
نائجیریا کے شمال مشرقی علاقوں میں خواتین شدت پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے خودکش بم دھماکوں میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور درجنوں زخمی ہیں۔
فوج کے اہلکار نے بتایا کہ سوموار کو مداگیلی کے قصبے کے بازار میں ہونے والے دو خودکش دھماکوں میں کم سے کم 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ قریبی ریاست بورنو میں شدت پسندوں کے حملوں میں 30 سے زائد افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہیں۔
گذشتہ ہفتے ملک کے صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے جنگجوؤں کو ’واضح شکست‘ ہوئی ہے۔
ان تازہ حملوں کا الزام بھی بوکو حرام پر عائد کیا جا رہا ہے۔
درالحکومت ابوجا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان پر تشدد کارروائیوں کے ذریعے بوکو حرام یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ ابھی بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ملک کے صدر محمد بوہاری نے عہدے سنبھالنے کے بعد کہ شدت پسند گروہ کو شکست دینے کا وعدہ کیا تھا۔ گذشتہ ہفتے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں نائیجیریا کے صدر نے کہا ’بوکو حرام سکیورٹی فورسز اور عوام پر منظم حملے نہیں کر سکتا ہے‘
ریاست میں فوج کے سربراہ نے تصدیق کی کہ مداگیلی قصبے کے بازار میں دو خودکش دھماکے ہوئے ہیں۔ مقامی عہدے دار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ خواتین خودکش حملہ آوروں کے حملے میں کم سے کم 30 افراد ہلاک ہوئے ہیں
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

دوسری جانب مداگیلی کے مضافاتی علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں 10 خودکش حملہ آوروں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ راکٹوں اور گرینڈ سے لیس مسلح جنگجوؤں نے دیہات میں داخل ہو کر فائر کھول دیے۔ اس حملے کے چند گھنٹے بعد ایک خاتون خودکش حملہ آور نے مسجد کے باہر اپنے آپ کو دھماکہ خیر مواد سے اڑا لیا۔ اس حملے میں ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔
نائجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں گذشتہ چھ برسوں کے دوران شدت پسند تنظیم بوکو حرام کی پرتشدد کارروائیوں میں 17 ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور15 لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ شدت پسندوں نے علاقے میں ایک ہزار سکول بھی تباہ کیے ہیں۔







