پناہ گزینوں کی کشتی پر ترک محافظوں کے لاٹھیوں سے وار
بی بی سی کو موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ترکی کے کوسٹ گارڈز یونان جانے والی پناہ گزینوں سے بھری ایک کشتی میں سوار لوگوں پر ڈنڈے برسا رہے ہیں۔
یہ واقعے بحرالجزائر میں پیش آیا جب یہ پناہ گزین یونان کے جزیرے لیسبوس جانے کے لیے ترکی کی سمندر حدود میں سے گزر رہے تھے۔
<link type="page"><caption> تارکین وطن غیر قانونی طریقے سے یورپ نہ آئیں: ڈونلڈ ڈسك</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/03/160303_donald_tusk_warns_migrants_rwa.shtml" platform="highweb"/></link>
پناہ گزینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ترکی کے محافظوں نے ان پر حملہ کیا لیکن گوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ وہ کشتی میں سوار افراد کو نقصان پہنچائے بغیر کشتی کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یورپی یونین اور ترکی پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکنے کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
یورپ جنگ عظیم دوئم کے بعد پناہ گزینوں کے سب سے بڑے بحران سے گزر سے رہا ہے۔ گذشتہ برس دس لاکھ سے زائد افراد غیر قانونی طریقے سے کشتیوں پر یورپ میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر نے ترکی اور یونان کا راستہ اختیار کیا۔
رواں برس اب تک ایک لاکھ 32 ہزار پناہ گزین یونان پہنچ چکے ہیں۔ یہ گذشتہ برس اب تک کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
پناہ گزینوں پر لاٹھیوں سے حملے کا واقعہ بظاہر سنیچر کو ترکی کی سمندر حدود میں پیش آیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تیس سیکنڈ کے کلپ میں ربڑ کی کشتی میں لائف جیکٹش پہنے لوگوں کو دیکھا جا سکتاہے جبکہ ایک دوسری کشتی میں سوار افراد لوہے کے ڈنڈوں سے کشتی پر ضرب لگا رہے ہیں۔ کشتی میں سوار افراد عربی اور فارسی زبان میں چِلّا رہے ہیں۔
بعد ازاں یہ کشتی آگے بڑھ گئی اور لیسبوس پہنچ گئی۔
ترکی کے کوسٹ گارڈز کے حکام نے اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ’اہلکار پناہ گزینوں کو نقصان پہنچائے بغیر کشتی کا انجن بند کرنے کی کوشش کررہے تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’رائج طریقہ یہ ہے کہ پناہ گزینوں کی کشتی کو باندھ کر واپس ترکی تک لایا جاتا ہے کہ لیکن مذکورہ کشتی کے پناہ گزینوں نے انجن بند نہیں کیا اور یونان کے لیے سفر جاری رکھا۔‘
ہمارے نامہ نگار کے مطابق انھیں کئی دوسری پناہ گزینوں کے ساتھ بھی ایسے ہی واقعات پیش آنے کا علم ہوا ہے۔
یونان پہنچنے والے زیادہ تر پناہ گزین شامی باشندہ ہیں جہاں چار برسوں سے خانہ جنگی جاری ہے۔ ادھر ترکی میں بھی 27 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں۔







