تارکین وطن کا بحران، یورپی یونین کی ہنگامی منصوبہ بندی

پناہ گزین یورپ کے شمالی ممالک بطور خاص جرمنی جانے کے لیے بیتاب ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپناہ گزین یورپ کے شمالی ممالک بطور خاص جرمنی جانے کے لیے بیتاب ہیں

یورپی یونین تارکین وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے انسانی ہمدری کے تعاون کے طور پر کئی کروڑ یورو خرچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

یہ منصوبہ یونان میں کثیر تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کے بعد بنایا جا رہا ہے کیونکہ یونان تارکین وطن کے سیلاب سے نمٹنے میں مشکلات سے دوچار ہے۔

یہ منصوبہ بدھ کو پیش کیا جانا ہے جس کے تحت یورپ کے اندر یورپی یونین کے فنڈز کو اسی طرح مختص کیا جائے جیسےکسی بحران کے دوران یورپ کے باہر کے لیے کیا جاتا تھا۔

اقوام متحدہ نے یونان کی سرحد کے قریب تارکین وطن کے بڑی تعداد میں جمع ہونے کے نتیجے میں تباہ کن نتائج کے حامل بحران کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ مقدونیہ سے متصل سرحد پر ہزاروں پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔

یہ منصوبہ یورپی یونین کی ایگزیکیٹو تنظیم یورپی کمیشن کے ذریعے پیش کیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی یونین کی امدادی ایجنسیاں پہلی بار اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یورپ کے اندر براہ راست تعاون کریں گی۔

مسیڈونا کی سرحد پر ہزاروں پناہ گزین انتہائی پریشانی کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں
،تصویر کا کیپشنمسیڈونا کی سرحد پر ہزاروں پناہ گزین انتہائی پریشانی کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں

اس سے قبل وہ رکن ممالک کو پیسے مختص کیا کرتی تھی۔

یورپی یونین کے حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کہ تحت رواں سال 30 کروڑ یورو مختص کیے جائیں گے تاکہ یورپی یونین میں شامل ممالک تارکین وطن کے بحران سے نمٹ سکیں۔ مجموعی طور پر تین سال کے دوران 70 کروڑ یورو فراہم کیے جائیں گے۔

یورپ میں بی بی سی کے نمائندے کرس مورس کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فنڈ فوری طور پر مہیا کیے جائیں گے تاہم یورپی یونین کو بحران پر قابو پانے کے لیے تارکین وطن کی آمد کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے لیے ترکی سے بہتر تعاون کی ضرورت ہوگی۔

یونان نے یورپی کمیشن سے تقریباً 50 کروڑ یورو کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ایک لاکھ پناہ گزینوں کا خیال رکھا جا سکے۔

رہائش اور خوراک اور صفائی کی قلت محسوس کی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرہائش اور خوراک اور صفائی کی قلت محسوس کی جا رہی ہے

ان میں سے تقریباً 24 ہزار پناہ گزینوں کو رہائش کی ضرورت ہے جبکہ آٹھ ہزار مقدونیہ کے ساتھ سرحد پر خراب حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

سرحد کے بند کیے جانے کے باوجود ہزاروں پناہ گزین شمالی یورپ خصوصاً جرمنی جانے کے لیے بیتاب ہیں اور وہاں قائم کیمپ میں گنجائش سے زیادہ افراد ہیں۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس کی ایمرجنسی کوارڈینیٹر کیرولن ہیگا کا کہنا ہے کہ یونان کی فوج نے آئیڈومنی سرحد کے پاس مزید تین کیمپ بنائے ہیں اور ہر ایک میں تقریباً دو ہزار افراد ہیں۔

منگل کو اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر نے متبہ کیا تھا کہ ’یورپ اپنے ہی بلائے ہوئے انسانی بحران کے دہانے پر ہے۔‘

ادارے کے ترجمان ایڈرین ایڈوارڈس نے کہا کہ یونان کی سرحد پر بھیڑ کی وجہ سے خوراک، رہائش، پانی اور رفع حاجت کی سہولتوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔