’ تارکین وطن کا بحران یورپ کا خود پیدا کردہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیں کا کہنا ہے کہ تارکین وطن سے متعلق یورپ کا بحران اس کا خود پیدا کردہ ہے کیونکہ یہ ممالک اپنی سرحدیں بند کرتے جارہے ہیں اور جو معاہدہ انھوں نے خود کیا تھا اس کی پابندی نہیں کی ہے۔
ادارہ کے ایک ترجمان ایندریج مہیدسک نے کہا کہ گذشتہ برس یورپی ممالک نے 66 ہزار پناہ گزینوں کو یونان سے دوسری جگہ بسانے کا وعدہ کیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ لیکن صرف 1800 سو مقامات انھیں مہیا کیے گئے جس میں سے اب تک صرف 325 افراد ہی دوبارہ از سر نو آباد ہو پائے ہیں۔
دوسری جانب یورپ میں تارکین وطن کے بڑھتے ہوئے بحران جیسے مسئلے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کے تحت یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک ترکی اور یونان کا دورہ کرنے والے ہیں۔
ڈونلڈ ٹسک کا کہنا ہے کہ ترکی سے یونان کے جزیرے کی طرف جانے والے پناہ گزينوں کی تعداد میں کمی سے انسانی تباہیوں کو روکنے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔
25 ہزار سے زیادہ تارکین وطن اس وقت یونان کی سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔
جمعرات کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان ہونے والی ایک کانفرنس میں بھی انہی تارکین وطن کے سوال پر بھی بات چیت کا امکان ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند فرانس کے شہر ایمنیز میں دہشت گردی کی روک تھام پر بات چیت کریں گے جس میں لیبیا اور شام کے تنازعات پر بھی گفت و شنید کا امکان ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ملاقات سے عین قبل فرانس کے وزیر خزانہ ایمینوئیل میکرون نے کہا کہ اگر جون کے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ یوروپی یونین سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کا ملک تارکین وطن کو بغیر کسی چیک اپ کے برطانیہ جانے دینے کی اجازت دے سکتا ہے۔
مسٹر ٹسک اس ہفتے پناہ گزینوں سے متعلق پیدا ہونے والی کشیدگی دور کرنے کے لیے کئی یورپی ممالک کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
اس دورے کا مقصد آئندہ سات مارچ کو یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ہونے والی کانفرنس کے لیے تیاری کرنا ہے۔
منگل کو ویانا میں مسٹر ٹسک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ترکی کے ساتھ ہی ایک لمحے کے لیے بھی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کو بڑھانے کے لیے ہونے والی کوشش کو روک نہیں سکتے ہیں۔‘
منگل کو اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر نے متنبہ کیا تھا کہ ’یورپ اپنے ہی بلائے ہوئے انسانی بحران کے دہانے پر ہے۔‘
ادارے کے ترجمان ایڈرین ایڈوارڈس نے کہا کہ یونان کی سرحد پر بھیڑ کی وجہ سے خوراک، رہائش، پانی اور رفع حاجت کی سہولتوں کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔







