پناہ گزینوں پر یورپ اور ترکی میں تعطل برقرار

،تصویر کا ذریعہAFP
ایمان کہتی ہیں ’پہلی بار جب ہم نے سمندر پار کرنے کی کوشش کی تو ہماری کشتی کا انجن خراب ہوگیا تھا اور ترکی کے حکام ہمیں ترکی واپس لے گئے تھے۔
’انھوں نے تین روز تک ہمیں زیر حراست رکھا اور ہماری انگلیوں کے نشانات محفوظ کیے۔ اس کے بعد انھوں نے ہمیں آزاد کردیا، جس کے بعد ہم نے سمندر پار کرنے کی پھر سے کوشش کی۔‘
ایمان اور ان کے خاندان کے افراد حال ہی میں یونان کے کوسٹ گارڈز کی کشتی سے ساحل پر پہنچے ہیں۔
وہ پُر امید ہیں کہ شام سے جرمنی پہنچنے کے جس سفر کا انھوں نے آغاز کیا تھا اس میں وہ کامیاب ہوجائیں گے۔
موسم سرما کے اختتام اور موسم بہار کے آغاز کے بعد کوسٹ گارڈز نے یونان کی سمندری سرحدوں سے روزانہ سینکڑوں پناہ گزینوں کو ان کی کمزور ربڑ کی کشتیوں سے سے بچانا اور اپنی کشتیوں میں منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔
یہ اقدامات ان کی پالیسی میں ایک تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ماضی میں کوسٹ گارڈز صرف اس صورت میں مداخلت کرتے تھے جب پناہ گزینوں کی کشتی یا توخطرے کا شکار ہوتی یا ڈوبنے کے بالکل قریب ہوتی تھی۔
یہ اس بات کی علامت ہے کہ یونانی جزیروں میں پناہ گزینوں کی منتقلی سے متعلق بحران سے نمٹنے کے حوالے سے انتظامات زیادہ منظم ہوتے جارہے ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جبکہ یورپی یونین کے رہنما ترکی کےساتھ کانفرنس کی تیاریاں کر رہے ہیں یونانی جزیرے لیسبوس آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
لیفٹیننٹ کمانڈر اینٹونس سوفیاڈیلس کہتے ہیں ’ہم نے ترکی کے کوسٹ گارڈز کے رویوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی ہے۔ ہم نے ان کے سمندری حدود میں زیادہ کشتیوں کوگشت کرتے نہیں دیکھا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ ہمارے لیے بہت فکرانگیز بات ہے، اور اگر کوئی تبدیلی نہیں آتی تو میرے خیال میں لوگوں کی آمد کے سلسلے میں مزید تیزی آئے گی۔‘
یہ ان وجوہات میں سے ایک ہے جن کے تحت سیاسی توجہ پناہ گزینوں کی روک تھام کی پالیسی سے انھیں وطن واپس بھیجنے کی پالیسی میں تبدیل ہو رہی ہے۔
جمعے کے روز یورپی یونین کے پناہ گزینوں کے کمیشنر دیمیتری اوراموپولس سے پوچھا گیا کہ کیا تمام غیر شامی پناہ گزینوں کو منظم انداز میں ترکی واپس بھیجنے کا کوئی منصوبہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارےطے کردہ اہداف میں سے ایک انتہائی اہم ہدف ہے۔
’وہ افراد جو یورپ میں بین الاقوامی تحفظ کی تلاش میں آئے ہیں انھیں یہ ضرور ملے گی۔ جبکہ باقی افراد کو واپس جانا ہوگا۔‘
ان افراد میں اگر عراقی اور افغان باشندوں کو شامل کر لیا جائے تو اس سال وہاں پہنچنے والے پناہ گزینوں میں سے تقریباً نصف افراد یونان میں ٹھہرنے کے اہل نہیں ہوں گے۔
ایسے وقت میں جبکہ یورپ میں حکومتیں پناہ گزینوں کی بہت بڑی تعداد میں آمد کے بحران سے نمٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں یہ اقدامات سخت یورپی پالیسی کے نمائندگی کرتے نظرآئیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم اس طرح کی پالیسی پر سب کا راضی ہوجانا اس پر عمل درآمد کرنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے ۔
ہر مرحلے پر ترکی کی جانب سے مکمل تعاون حاصل ہونا بہت ضروری ہوگا۔
ترک حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ہفتوں میں وہ پہلے ہی تقریباً 24 ہزار پناہ گزینوں کو غیر قانونی طریقے سے ملک چھوڑنے سےباز رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
ایمان اور ان کے خاندان کے افراد کی طرح اگر دیگر افراد کو حراست میں لے بھی لیا جاتا ہے تو زیاد تر افراد رہا ہوتے ہی دوبارہ بحیرۂ ایجیئن پار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یورپی یونین کے رہنماؤں پر زور ڈالا جارہا ہے کہ وہ پہلے یونان پہنچ جانے والے پناہ گزینوں کی یورپ کے دیگر علاقوں میں بحالی کے عمل کو تیز کریں۔
ہنگری اور سلوواکیہ جیسے ممالک گذشتہ سال یورپی یونین کے ان قوانین کے خلاف شدید مزاحمت کر رہے ہیں جن پر ووٹنگ کے بعد اتفاق کیا گیا تھا۔
یونانی جزیروں پر پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی آنے کی صورت میں جرمنی اور دیگر ممالک میں ترکی کے کیمپوں سے براہ راست آنے والے ہزاروں شامی پناہ گزینوں کی کچھ ہی عرصے میں بحالی کے عمل کی تیاریاں کی جا سکتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
دوسری جانب ترک حکام اس بات کی یقین دہانی کے منتظر نظر آتے ہیں کہ پناہ گزینوں کی بحالی کا عمل واقعی شروع ہوگا۔ وہ ایجیئن کے ساحل کے دوردراز علاقوں میں انسانی سمگلروں سے نمٹنے کے لیے اپنے اضافی وسائل بروئے کار لانے سے قبل یہ یقین دہانی چاہتے ہیں۔
یہ وہ وقت ہے جبکہ ہر ایک اپنی بات منوانے کی لیے کوشاں ہے تاہم یہ بہت ضروری ہے کہ جلد از جلد کسی نتیجہ خیز پالیسی پر متفق ہو جائیں۔







