پناہ گزینوں کا بحران: ہنگامی اجلاس ختم، فیصلہ موخر

،تصویر کا ذریعہEPA
تارکین وطن کے مسئلے کے حل کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان برسلز میں ہونے والا اجلاس ختم ہوگیا ہے اور فیصلے کو موخر کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ ترکی کا مطالبہ ہےکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے کے لیے ترکی کو یورپی یونین کی مزید امداد دی جائے اور ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت کے لیے بات چیت کی کوششیں تیز کی جائیں۔
یورپی یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بہت حد تک اس منصوبے کے اصولوں پر رضامند ہیں تاہم انھیں معاہدے کی تفصیلات پر کام کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
دونوں جانب مذاکرات 17 اور 18 مارچ یورپی یونین کے طے شدہ اجلاس کے آغاز تک جاری رہیں گے۔
اس سے قبل یورپی یونین کے ایک اہلکار نے کہا تھا کہ اجلاس میں ’اچھی پیش رفت‘ ہوئی ہے تاہم ترکی کی پیشکش پر غور کرنے کے لیے یورپی یونین کے رہنماؤوں کو مزید وقت کی ضرورت ہے۔
یورپ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ایک بہت بڑے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور زیادہ تر تارکینِ وطن ترکی کے راستے یورپ میں داخل ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی میں اس وقت 27 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں جو خانہ جنگی کے شکار اس کے ہمسایہ ملک شام سے آئے ہیں۔
یورپی یونین چاہتی ہے کہ ترکی ان تارکینِ وطن کو واپس لے جو مہاجرین کا درجہ حاصل کرنے کے اہل نہیں اور ترکی اپنے پانیوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مطالبات کے بدلے میں ترک حکومت یورپی یونین سے ساڑھے چھ ارب ڈالر سے زائد امداد کا کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اس کا مطالبہ ہے کہ یورپی یونین کچھ شامی پناہ گزینیوں کو دوبارہ آباد کرے جو اس وقت ترکی کی سرزمین پر موجود ہیں۔
ترکی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے موجود منصوبے کی تیزی اور یورپ میں ترک باشندوں کے لیے فری ویزے کی اجازت بھی چاہتا ہے۔
ترکی کی جانب سے حالیہ منصوبہ وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کی جانب سے پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیکج کو نہ صرف غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے پر ترکی اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے بنایا گیا ہے بلکہ اسے دیگر تمام مشکل معاملات کے حوالے سے بھی بنایا گیا ہے۔
بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب میں ترک وزیراعظم نے مزید امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

ادھر جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے کہا ہے کہ ترکی کی پیشکش ایک بریک تھرو ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل انھوں نے کہا تھا کہ انھیں ایک ’مشکل بحث‘ کا خدشہ ہے۔
فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے بھی یہ اشارہ دیا کہ ترکی کو دی جانے والی امداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاہم ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان کے ترجمان کے مطابق انھوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ وہ یورپ میں مہاجرین کی آباد کاری کے خلاف ہیں۔
ادھر پیر رات گئے جاری رہنے والے اس اجلاس کے حوالے سے یورپین کمیشن کے صدر کلاڈ ینکر کے چیف آف سٹاف مارٹن سیلمیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ مہاجرین کے مسئلے کے حل کے لیے ہونے والے مشکل مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ رات دیر گئے بات چیت میں کوئی بریک تھرو ہوگا یا نہیں۔
اس سے قبل ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یورپی یونین پر الزام لگایا ہے کہ وہ امداد کے وعدے پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
گذشتہ سال دس لاکھ سے زیادہ پناہ گزین غیرقانونی طور پر کشتیوں کے ذریعے یورپ میں داخل ہوئے جن میں سے ایک بڑی تعداد ترکی سے یونان آنے والوں کی تھی۔
آسٹریا اور بلقان ریاستوں کی جانب سے سرحدی پابندیوں کے نفاذ کے بعد مقدونیہ سے متصل یونان کی سرحد پر تقریباً 13 ہزار پناہ گزین پھنسے ہوئے ہیں۔
جنگ زدہ علاقوں شام اور عراق سے آنے والے تارکین وطن کا ترکی سے یونان کا خطرناک سفر طے کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اتوار کو ہی ترکی سے یونان جانے والے تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 25 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔







