’آسٹریا میں اب روزانہ 80 پناہ گزین ہی آ سکیں گے‘

گذشتہ برس یورپ میں تقریباً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار اس قسم کا بحران پیدا ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنگذشتہ برس یورپ میں تقریباً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار اس قسم کا بحران پیدا ہوا ہے

یورپی ملک آسٹریا میں روزانہ ایک مقررہ تعداد میں پناہ گزینوں یا تارکینِ وطن کو داخلے کی اجازت دینے کا قانون نافذ کر دیا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت ملک کی جنوبی سرحد پر ایک دن میں پناہ کی صرف 80 درخواستیں ہی وصول کی جائیں گی اور یہ تعداد پوری ہونے پر سرحد بند کر دی جائے گی۔

تاہم مہاجرت کے بارے میں یورپی کمیشن کے سربراہ نے اس اقدام کو یورپی یونین کے قانون سے ’بالکل متصادم‘ قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کے رکن ممالک کے رہنماؤں نے پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لیے آئندہ ماہ کے اوائل میںترک حکام کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

برسلز میں یورپی یونین کی ایک اجلاس میں بات چیت کے بعد یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ ’یورپی یونین اور ترکی کا علمی منصوبہ ہماری ترجیح ہے۔‘

یورپی یونین نے ترکی کو اس کی اپنی سر زمین پر پناہ گزینوں کے رہائش کا انتظام کرنے کے لیے تین ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم مہیا کرنے کا عہد کیا ہے۔

ترکی میں اس وقت تقریباً 30 لاکھ پناہ گزین مقیم ہیں اور ان میں سے بیشتر شام میں جاری خانہ جنگی سے بچنے کے لیے آئے ہیں۔

گذشتہ برس یورپ میں بھی تقریباً دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے جس سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اس نوعیت کا بحران پیدا ہوا ہے۔

آسٹریا کی جنوبی سرحد پر ایک دن میں پناہ کی صرف 80 درخواستیں ہی وصول کی جائیں گی اور تعداد پوری ہونے پر سرحد بند کر دی جائے گی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنآسٹریا کی جنوبی سرحد پر ایک دن میں پناہ کی صرف 80 درخواستیں ہی وصول کی جائیں گی اور تعداد پوری ہونے پر سرحد بند کر دی جائے گی

ان پناہ گزینوں میں سے اکثریت آسٹریا کے راستے جرمنی گئی جبکہ آسٹریا میں گذشتہ برس 90 ہزار افراد نے پناہ کی درخواست کی اور یہ تعداد ملک کی کل آبادی کے ایک فیصد کے برابر ہے۔

آسٹریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی تعداد مقرر کرنا ضروری تھا کیونکہ یورپی یونین کا وہ منصوبہ کارگر ثابت نہیں ہو رہا جس کے تحت پناہ گزینوں کو ترکی میں روکا جا سکے۔

گذشتہ برس جرمنی میں چار لاکھ 76 ہزار افراد نے پناہ کی درخواست کی جبکہ آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ پناہ کی درخواستیں سویڈن میں دی گئیں جہاں یہ تعداد ایک لاکھ 63 ہزار رہی۔

سویڈن نے بھی اپنی سرحدوں پر آنے والے پناہ گزینوں کو داخلے سے روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور جمعرات کو سویڈش حکام نے کہا کہ وہ جگہ اور سہولیات کی کمی کی وجہ سے کچھ پناہ گزینوں کو ایک بحری جہاز پر رکھنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کے معاملے کے لیے یورپی یونین کے کمشنر دمیتری اوراموپولس نے آسٹریا کی وزارتِ داخلہ کو تحریر کیے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ روزانہ محدود تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا منصوبہ آسٹریا کی اس ذمہ داری سے مطابقت نہیں رکھتا جو یورپی یونین کے رکن کی حیثیت سے اس پر عائد ہوتی ہے۔