’سوئیڈن 80 ہزار پناہ گزینوں کو واپس بھیجے گا‘

،تصویر کا ذریعہReuters

سوئیڈن میں وزیر داخلہ کے ایک بیان کے مطابق تقریباً 80 ہزار ان پناہ گزینوں کو واپس بھیجے جانے کی توقع ہے جن کی سیاسی پناہ حاصل کرنے کی درخواستیں مسترد کی جا چکی ہیں۔

وزیر داخلہ اینڈرز ایگمین کے ایک بیان کے مطابق ایسے پناہ گزینوں کو آئندہ کئي برسوں میں واپس بھیجنے کے لیے چارٹرڈ فلائٹ کا استعمال کیا جائے گا۔

سوئیڈن کے ذرائع ابلاغ میں ان کا جو بیان شائع ہوا اس کے مطابق انہوں نے کہا ’ہم 60 ہزار افراد کے متعلق بات کر رہے ہیں لیکن یہ تعداد 80 ہزار تک بھی جا سکتی ہے۔‘

سوئیڈن کے سرکاری ٹی چینل اور ایک مقامی اخبار میں وزیر داخلہ کا جو بیان نشر ہوا ہے اس میں یہ تعداد واضخ طور پر80,000 بتائی گئي ہے۔

لیکن بعد میں خود وزیر نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے اس پر ابھی کوئي موقف اختیار نہیں کیا ہے کہ آيا کتنے پناہ گزیں پناہ کے حق دار ہوں گے اور اصل میں تو یہ معاملہ عدالت اور حکام کے دائر اختیار میں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

گذشتہ برس سوئیڈن میں ایک لاکھ 63 ہزار افراد نے پناہ کی درخواست دی تھی جو ملک کی آبادی کی مناسبت سے یورپی ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔ اس میں سے تقریباً 58،800 افراد کی درخواستیں منظور کی گئیں۔

حال ہی میں سوئیڈن نے دوسرے یورپی ممالک کی طرح لوگوں کی کھلی آمد و رفت کو روکنے کے لیے اپنی سرحد پر بھی عارضی طور پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

جو پناہ گزین یورپ میں غیر قانونی طور پر داخل ہورہے ہیں ان کے لیے جرمنی کے ساتھ سوئیڈن بھی ایک اہم منزل ہے جہاں وہ پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

عراق، شام اور دیگر خطوں میں شدید لڑائی اور بھیانک صورت حال کے پیش نظر لوگوں کی ایک بڑی تعداد یورپ کی طرف نقل مکانی کر رہی ہے اور گزشتہ برس ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد یوروپی ممالک پہنچی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

یورپ میں ایسے دسیوں ہزار افراد کی آمد سے ایک بحرانی کیفیت پیدا ہورہی ہے جس سے یورپی یونین نمٹنے کی کوششوں میں ہے۔ یورپی ممالک میں اس مسئلے سے نمٹنے پر اختلافات بھی پائے جاتے ہیں۔

اقوام متحد کے اعداد و شمار کے مطابق اس برس کے پہلے میہینے میں ہی تقریباً 46 ہزار افراد پناہ کے لیے یونان پہنچ چکے ہیں۔

یورپی ممالک کے درمیان اس مسئلے سے نمٹنے میں اختلافات پائے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں گذشتہ ہفتے کے بعض واقعات سے سوئیڈن میں بھی تناؤ پایا جاتا ہے۔

سوئیڈن کے ملندال نامی شہر میں 15 برس کے ایک پناہ گزین کو اس وقت حراست میں لیا گيا جب اس سے متعلق کیمپ کے ایک 22 سالہ ملازم کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

سوئیڈن میں حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 35400 کم عمر کے لوگوں نے گذشتہ برس پناہ کے لیے دراخواست دی تھی جو 2014 کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے۔