جرمنی ’غلیظ‘ ماضی سےجان چھڑا لےگا؟

گزشتہ عرصے میں ان مراکز پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے جہاں تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے
،تصویر کا کیپشنگزشتہ عرصے میں ان مراکز پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے جہاں تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے

ماضی کے مشہور جرمن ادیب گینٹر گراس نے اپنے ملک کی تاریخ کے بارے کہا تھا کہ ہماری تاریخ ایک بیت الخلا کی مانند ہے جس کی غلاظت کو کبھی صاف نہیں کیا گیا۔

گینٹر گراس کی یہ بات انتہائی اشتعال انگیز تھی، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کسی بھی قوم یا ملک کے حال کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اپنے ماضی سے مکمل جان چھڑا لے۔

حال ہی میں جب میں مشرقی جرمنی کے شہر ڈریزڈن کے گلیوں میں چل رہا تھا تو ایک سوال میرے ذہن میں بار بار آ رہا تھا اور وہ یہ کہ آج جب تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد سکونت کی غرض سے ڈریزڈن پہنچ رہی ہے، آج اگر گینٹر گراس زندہ ہوتے تو وہ اس صورتحال پر کیا تبصرہ کرتے۔

میراخیال ہے کہ وہ اگر آج زندہ ہوتے تو اس شہر میں تارکین وطن کی مخالفت میں پیش پیش دائیں بازو کی بڑھتی ہوئی طاقت کو شہر کے لیے ایک بُرا شگون ہی قرار دیتے۔

’خوفزدہ‘

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ عرصے میں ان مراکز پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے جہاں تارکین وطن کو رکھا جا رہا ہے۔

پولیس کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے، کیونکہ شہر کے نواحی قصبے فریٹل میں جب میری ملاقات بائیں بازو کے ایک مقامی رہنما سے ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ تارکین وطن کی حمایت کی وجہ سے انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے کارکن ان کے دفتر اور کار کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

مائیکل رکٹر کہتے ہیں کہ جدید دور کے نازیوں کی یہ حرکات دیکھ کر انھیں خوف آ رہا ہے۔

’مجھے آج کے حالات اور اور سنہ 1933 کے ہٹلر کے زمانے کے حالات میں مماثلت دکھائی دیتی ہے۔ آج پھر یہاں ایک ایسی نفرت انگیز لہر چل پڑی ہے جو قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ آج حالت یہ ہو چکی ہے کہ مجھے خود مہاجرین سے زیادہ خود جرمن لوگوں سے ڈر لگ رہا ہے۔‘

مسٹر رکٹر کہتے ہیں کہ جرمنی میں اعتدال پسند سیاستدان دائیں بازو کی قوتوں کے خلاف متحد ہونے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

مسٹر رکٹر یہ دیکھ کر بہت فکرمند ہیں کہ تارکین وطن کے خلاف دائیں بازو کا پراپیگنڈا اب تیزی سے ذرائع ابلاغ میں پھیل رہا ہے۔

بات مسٹر رکٹر تک محدود نہیں بلکہ جرمنی میں اعتدال پسند لوگوں کی ایک بڑی تعداد فکرمند ہے کہ دائیں بازو کا اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے۔

’بدلتی دنیا‘

قریب ہی کمیونسٹ دور کی ایک بڑی رہائشی عمارت کے نیچے ڈرک ٹملمانز کھڑے تھے اور ٹیکسی کا انتظار کر رہے تھے۔

ڈرک سمجھتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے
،تصویر کا کیپشنڈرک سمجھتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے

ڈرک فریٹل میں ہی پیدا ہوئے اور ان کا بچپن کا دور وہ دور تھا جب قصبے کے ارد گرد سٹیل کی کئی فیکٹریاں تھیں اور ملازمت کی کوئی کمی نہ تھی۔ انھیں لگتا تھا کہ حکومت کی سوشلسٹ پالیسیوں کی وجہ سے اگرچہ گھٹن تھی لیکن پھر بھی معاشرے میں ایک ٹھہراؤ یا استحکام پایا جاتا تھا۔

لیکن اب ڈرک سمجھتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا اس قدر تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ ہر کوئی چکرا گیا ہے۔

’کیا مہاجرین کی آمد سے مجھے خوف محسوس ہو رہا ہے؟‘

’ہاں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یورپ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ اتنے زیادہ لوگوں کو اپنے ہاں پناہ دے سکے۔ تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد یہاں پہنچ رہی ہے۔‘

ڈرک سمجھتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے
،تصویر کا کیپشنڈرک سمجھتے ہیں کہ ان کے ارد گرد کی دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے

’ہماری حکومت کو کوئی سمجھ نہیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے۔ کل جو کچھ پیرس میں ہوا، وہ یہاں بھی ہوگا۔‘

مجھے ڈریزڈن میں وہی باتیں سننے کو ملیں جو میں یورپ کے ان کئی شہروں میں سن چکا ہوں جہاں نسل پرستی اور غیر ملکیوں سے نفرت جڑیں پکڑتی جا رہی ہے۔ ان شہروں میں لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ سیاستدانوں کو ان کے مسائل کا کچھ پتا نہیں کیونکہ وہ کسی دوسری دنیا میں رہتے ہیں۔

گالم گلوچ

ٹیکسی سٹینڈ سے دس منٹ کے پیدل فاصلے پر ہوٹل لینارڈو ہے، جو کہ اصل میں پرانا گیسٹ ہاؤس ہے جس میں ضروری رد وبدل کر کے اسے مہاجرین کا سینٹر بنا دیا گیا ہے۔

اس مرکز پر میری ملاقات سمن شیرکو سے ہوئی جو کہ ایک کُرد ہیں۔ سمن شمالی عراق میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف لڑتے ہوئے شدید زخمی ہو گئے تھے۔

سمن کو فریٹل آئے ہوئے چار ماہ ہی ہوئے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہاں مہاجرین کے خلاف خاصی نفرت پائی جاتی ہے۔

’لوگ ہمارے بارے میں بُری زبان استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیں ڈنڈوں سے مار چکے ہیں، یہ لوگ موٹر سائیکلوں پر سوار آتے ہیں اور ہمیں گالیاں دے کر چلے جاتے ہیں۔‘

’پیرس حملوں کے بعد اس نفرت میں اضافہ ہو گیا ہے۔‘

ڈریزڈن کے ماضی میں نفرت کے کئی بھُوت دفن ہیں، شاید اسی وجہ سے لوگ خوفزدہ ہیں کہ یہ شہر اپنے تاریک ماضی کو دُھرا سکتا ہے۔

لیکن میرا خیال ہے اس بات میں اتنی زیادہ سچائی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آئے روز رات کو شہر میں غصیلے مقامی نوجوان تارکین وطن کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگاتے رہتے ہیں، تاہم میرا خیال ہے کہ اب مشرقی جرمنی کے اس علاقے میں ہٹلر کے دور کی نفرت انگیز تحریک شروع نہیں ہو سکتی۔

بائیں بازو کے کارکنوں پگیڈا جیسی تحریکوں کو ہٹلر کی نسل پرستانہ پالیسیوں کا احیاء سمجھتے ہیں
،تصویر کا کیپشنبائیں بازو کے کارکنوں پگیڈا جیسی تحریکوں کو ہٹلر کی نسل پرستانہ پالیسیوں کا احیاء سمجھتے ہیں

میں نہیں سمجھتا کہ انگیلا مرکل کا جرمنی وہ ملک ہے جس کے معاشی حالات اتنے خراب ہیں کہ یہاں جنگ عظیم دوئم سے پہلے کی کوئی تحریک دوبارہ جنم لے سکتی ہے۔

آج کے جرمنی میں ذرائع ابلاغ مکمل آزاد ہیں اور سرکاری ادارے بہت مضبوط ہیں۔ یہاں کی پولیس اور انصاف کا نظام معاشرے کے کمزور لوگوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔

اس کی ایک مثال یہ ہے کہ فریٹل کے رہائشی اور انتہائی دائیں بازو کی تحریک ’پگیڈا‘ کے بانی لُٹز بیکمان کے خلاف ان الزامات کی تفتیش ہو رہی ہے کہ انھوں نے نفرت انگیز تقاریر کیں اور اپنی فیس بُک پر تارکین وطن کو ’جانور‘ اور ’گھٹیا انسان‘ کہا تھا۔

اس کے بعد دائیں بازو کی جماعتوں کے خلاف مظاہرے بھی ہو چکے ہیں۔

اس کے علاوہ جرمنی میں سماجی تنظیموں اور سرگرم کارکنوں کا ایک نہایت بڑا جال پایا جاتا ہے جو ملک میں آنے والے نئے لوگوں کی مدد کرتا ہے اور انھیں مفید مشورے بھی دیتا ہے۔

ہمدردی

گزشتہ دنوں ذریزڈن کے اسلامی مرکز کی دیوار پر ایک جرمن شخص نے ’قاتل‘ کا لفظ پینٹ کر دیا تھا، لیکن مرکز کے قریب ہی رہنے والی ایک جرمن خاتون نے اس شخص کو ایسا کرتے دیکھ لیا اور پولیس کو خبر کر دی۔

’مروہ الشربنی سینٹر‘ کا نام ایک مصری خاتون کے نام پر رکھا گیا ہے جنھیں سنہ 2009 میں ایک نسل پرستانہ حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ان معلومات کی روشنی میں میرے لیے مزید ضروری ہو گیا تھا کہ میں اس مرکز میں جا کر لوگوں سے بات کروں۔

’کچھ مقامی لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں‘
،تصویر کا کیپشن’کچھ مقامی لوگ ہمیں بُرا بھلا کہتے ہیں‘

مرکز کے مرکزی ہال کے پیچھے ایک کمرے میں چار جرمن افراد ایک مصری ماہر تعمیرات سے عربی کا سبق لے رہے تھے۔ یہ مصری صاحب گزشتہ سات سال سے اس شہر میں رہ رہے ہیں۔

ڈاکٹر مغدی خلیل نے بتایا کہ پیرس کے حملوں کے بعد انھیں اطلاعات ملی تھیں کہ جرمنی میں بھی مسلمانوں کو عوامی مقامات پر گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے ’لیکن میں یہاں بے شمار جرمن لوگوں سے ملتا ہوں جو بڑے احترام اور ہمدردی سے پیش آتے ہیں۔‘

اتحادیوں کی بمباری کے نتیجے میں ڈریزڈن مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا
،تصویر کا کیپشناتحادیوں کی بمباری کے نتیجے میں ڈریزڈن مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا

ڈاکٹر مغدی کے ایک جرمن طالبلعم لوکس پائتھ کا کہنا تھا کہ وہ بیس برس کی عمر کے ایسے نوجوانوں کو جانتے ہیں جو دائیں بازو کے قائل ہو گئے ہیں۔

’مجھے اس بات کی بالکل سمجھ نہیں آتی کہ وہ دائیں بازو کے خیالات سے کیسے متاثر ہو گئے ۔ یہ لوگ میرے ساتھ ہی بڑے ہوئے اور ہم لوگ ایک ہی سکول گئے۔‘

لگتا ہے کہ لوکس کے لیے یہ بات بہت اہم تھی کہ ان کے شہر ڈریزڈن کو دائیں بازو کی انتہاپسندی کا مرکز نہ سمجھا جائے۔

’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے شہر کے بارے میں دائیں بازو والی کہانی کسی قدر سچ ہے، لیکن یقین کریں یہ کہانی ہمارے شہر کی واحد کہانی نہیں ہے۔‘