کارڈف میں پناہ گزینوں کے لیے کلائی پر بینڈ پہننا ضروری

برطانیہ کے شہر کارڈف میں پناہ گزینوں کو کھانا فراہم کرنے والی نجی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کھانا حاصل کرنے کے لیے کلائی بند (رسٹ بینڈ) پہننے کی شرط کو ختم کر دے گی۔

یہ بات مقامی رکن پارلیمان جو سٹیونس نے بتائی ہے۔

خیال رہے کہ لنکس ہاؤس میں رہنے والے پناہ گزینوں کو چمکدار رنگ کے کلائی بند دیے گئے ہیں تاکہ انھیں کھانا مل سکے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ان کے انسانی وقار کے منافی ہے اور یہ بات مڈلزبرو میں ان کے گھروں کو سرخ رنگ میں رنگ دینے کے بعد سامنے آئی ہے جہاں اس کی وجہ سے انھیں گالیوں اور ناروا سلوک کا سامنا رہا ہے۔

اس کے بعد پناہ گزینوں کو مکان فراہم کرنے والی ہاؤسنگ کمپنی نے کہا کہ ان کے دروازوں کو پھر سے پہلے جیسا رنگ دیا جائے گا تاکہ انھیں پناہ گزین کے طور پر علیحدہ طور پر نہیں پہچانا جا سکے۔

لنکس کو وزرات داخلہ نے کارڈف میں پناہ گزینوں کی رہائش کا بندوبست کرنے کا کانٹریکٹ دیا تھا
،تصویر کا کیپشنلنکس کو وزرات داخلہ نے کارڈف میں پناہ گزینوں کی رہائش کا بندوبست کرنے کا کانٹریکٹ دیا تھا

اتوار کو کارڈف سنٹرل سے لیبر پارٹی کی رکن پارلیمان جو سٹیونس نے کہا کہ وہ کلیئر سپرنگ گروپ کی آپریشن ڈائرکٹر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کمپنی کو وزرات داخلہ نے کارڈف میں پناہ گزینوں کی رہائش کا بندوبست کرنے کا کانٹریکٹ دیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ایک ضمانت دی ہے کہ خوراک حاصل کرنے کا یہ طریقہ عمل پیر سے روک دیا جائے گا۔

اس سے قبل 36 سالہ پناہ گزین ایرک نگالا نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے تقریبا دو ماہ لنکس پر گزارے اور انھوں نے کلائی بند پہنے کی ضرورت پر آواز اٹھائی لیکن وہ اسے تبدیل کرانے میں ناکام رہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں یہ بتایا گيا کہ یہ وزارت داخلہ کا حکم ہے لیکن انھوں نے بتایا کہ کوئی بھی پناہ گزین اس بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

مشرقی لندن میں پناہ گزینوں کے گھروں کو سرخ رنگ میں پینٹ کر دیا گيا تھا
،تصویر کا کیپشنمشرقی لندن میں پناہ گزینوں کے گھروں کو سرخ رنگ میں پینٹ کر دیا گيا تھا

انھوں نے کہا کہ کلائی بند پہننا ان کے لیے ’لیبل لگانے‘ کی علامت اور ’تناؤ‘ کا سبب تھا۔