جنسی حملے کے شبہے میں الجزائری پناہ گزین گرفتار

کولون پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 31 دسمبر کی شب پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں 21 افراد سے تفتیش کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکولون پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 31 دسمبر کی شب پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں 21 افراد سے تفتیش کر رہی ہے

جرمنی کے شہر کولون میں پولیس نے الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک 26 سالہ پناہ گزین کو سالِ نو کی تقریبات کے دوران خواتین پر جنسی حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں حراست میں لیا ہے۔

مذکورہ شخص کا نام تاحال ظاہر نہیں کیا گیا ہے تاہم مقامی استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسے کرپن نامی قصبے میں پناہ گزینوں کے ایک مرکز سے اختتامِ ہفتہ پر حراست میں لیا گیا۔

<link type="page"><caption> جرمنی کا جرائم میں ملوث پناہ گرینوں کو ملک بدر کرنے پر غور</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160108_germany_cologne_sex_attack_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> جرمنی میں سالِ نو کے جشن پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160107_cologne_sex_attack_police_rethink_sr.shtml" platform="highweb"/></link>ت

اس شخص پر ایک خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور اس کا فون چوری کرنے کا شبہ ہے۔

کولون پولیس کا کہنا ہے کہ وہ 31 دسمبر کی شب پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں 21 افراد سے تفتیش کر رہی ہے لیکن ان میں سے کسی پر بھی جنسی حملوں کا الزام نہیں۔

سرکاری وکیل الرچ بریمر کا کہنا ہے کہ ان میں سے آٹھ افراد زیرِ حراست ہیں اور مقدمہ چلائے جانے کا انتظار کر رہے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر پر چوری کے الزامات ہیں۔

کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا

26 سالہ الجزائری پناہ گزین وہ پہلے شخص ہیں جن پر جنسی حملہ کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

ان کے ہمراہ ایک اور 22 سالہ الجزائری کو بھی حراست میں لیا گیا اور اس پر فون چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

کولون میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر بڑے پیمانے پر عوامی بدنظمی کے واقعات پیش آئے تھے۔

ان معاملات کی تفتیش کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد میں سے بیشتر تارکینِ وطن ہیں اور اُن کا تعلق شمالی افریقی اور عرب ممالک سے ہے۔

پولیس کے مطابق اِس ضمن میں اب تک 883 شکایات درج کروائی جا چکی ہیں جن میں سے 497 ایسی خواتین نے درج کروائی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ان پر جنسی حملے کیے گئے۔

جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ اس شام اور رات میں ہونے والے جرائم کے تناظر میں درج کیے گئے مقدمات کی تعداد 766 ہے جن میں سے تین جنسی زیادتی کے معاملات بھی ہیں۔

کولون میں خواتین پر بڑی تعداد میں حملوں نے پورے جرمنی کو چونکا دیا تھا۔

اِن حملوں کے بعد جرمنی میں تارکینِ وطن مخالف مظاہرے بھی ہوئے جبکہ پاکستانیوں سمیت دیگر تارکینِ وطن پر حملوں کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

خواتین سے بدسلوکی کے واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں بھی تجویز کی ہیں۔