کولون میں سال نو پر حملے، پولیس سربراہ مستعفی

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سالِ نو کی شام 18 سال کے 31 مبینہ پناہ گزینوبں کی شناخت کی ہے جن کا تعلق نئے سال کی آمد کے موقع پر کولون میں ہونے والے جرائم سے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنجرمن حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سالِ نو کی شام 18 سال کے 31 مبینہ پناہ گزینوبں کی شناخت کی ہے جن کا تعلق نئے سال کی آمد کے موقع پر کولون میں ہونے والے جرائم سے تھے

جرمنی کے شہر کولون میں سالِ نو کے موقع پر خواتین پر ہونے والے حملوں اور اس کے ردِعمل میں مظاہروں کے بعد عوامی اعتماد بحال کرنے کے لیے پولیس کے سربراہ اپنا عہدہ چھوڑ رہے ہیں۔

جرمن میڈیا رپورٹس کے مطابق نارتھ رہائن ویسٹفالیا کے وزیرِ داخلہ نے جمعہ کو اعلان کیا کہ ولف گینگ ایلبرس اپنے عہدے سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سالِ نو کی شام منعقدہ تقریبات کے موقع پر خواتین پر جنسی حملوں کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس کے کردار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

اس شام کولون کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے باہر ہونے والے تشدد سے ہجرت کے معاملے پر بحث کو بھی ہوا دی تھی۔

یہ سامنے آیا کہ ان حملوں کے پیچھے بظاہر عرب اور شمالی افریقہ کے خطے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے گروہ ملوث تھے۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سالِ نو کی شام 18 سال کے 31 مبینہ پناہ گزینوں کی شناخت کی ہے جن کا تعلق نئے سال کی آمد کے موقع پر کولون میں ہونے والے جرائم سے تھے۔

جرمن میڈیا کے مطابق نئے سال کی آمد کے موقع پر جنسی حملوں میں ملوث 16 اور 23 سال کے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو بظاہر شمالی افریقہ کے لگتے ہیں۔

دو افراد کے موبائل میں بنائی جانے والی ویڈیو میں ریلوے سٹیشن کے باہر کشیدگی اور خواتین پر جنسی حملوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

شہر کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ جنسی حملوں کے حوالے سے کل 21 افراد سے تحقیقات کر رہی ہے تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ ان میں سے پناہ گزین کتنے ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اِن ’قابلِ نفرت حملوں‘ پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا کہ واقعے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو جرمن قانون پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں انھیں واضح اشارہ دینا ہوگا۔

جرمن چانسلر نے ان حملوں کے بعد کہا تھا کہ جو جرمن قانون پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں انھیں واضح اشارہ دینا ہوگا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنجرمن چانسلر نے ان حملوں کے بعد کہا تھا کہ جو جرمن قانون پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں انھیں واضح اشارہ دینا ہوگا

ایک الگ کیس میں پولیس نے چار شامیوں کو گرفتار کیا ہے جن کی عمریں 14 سے 21 سال کے درمیان ہیں۔ اور ان پر بھی الزام ہے کہ انھوں نے جنوبی جرمنی کے گاؤں میں مبینہ طور پر دو نوجوان لڑکیوں کے ساتھ گینگ ریپ کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے خلاف موجود گروہ حملہ آوروں کو استعمال کر رہے ہیں تاکہ نفرت کو بڑھایا جائے۔

یورپ کے دیگر کئی ممالک میں بھی پولیس کو شکایات موصول ہوئی ہیں۔

فن لینڈ میں پولیس نے کہا ہے کہ نئے سال کی آمد پر انھیں بڑے پیمانے پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات کی روپرٹس موصول ہوئی ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ ایک مکمل طور پر نیا طریقہ کار ہے۔

سویڈن میں پولیس نے دو نوجوانوں کو 15 خواتین پر جنسی حملے کیے جانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

ادھر آسٹریا کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پولیس اس صورتحال کو بالکل برداشت نہ کرے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر عرب باشندوں کی جانب سے (اس خبر پر کہ مشتبہ حملہ آوروں کا تعلق شمالی افریقہ اور عرب ممالک سے ہے) شدید شرمندگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے وابستہ عرب صحافی نہلا ایل ہنوے کا کہنا ہے کہ ’ہمارے خطے کی بدصورتی جرمنی پہنچ رہی ہے۔‘