تارکین وطن سوئمنگ پول کیوں نہیں جا سکتے؟

 یہ علاقہ کولون کے جنوب میں 20کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں نئے سال کی آمد پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشن یہ علاقہ کولون کے جنوب میں 20کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں نئے سال کی آمد پر خواتین کو ہراساں کیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں

جرمنی کے ایک دیہات میں تارکینِ وطن مردوں کو سوئمنگ پولز میں جانے سے منع کر دیا ہے جس کی وجہ ان کی جانب سے خواتین کو ہراساں کیے جانے کی شکایات بنی ہے۔

بورنہیم کے سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ پناہ کی تلاش میں آنے والوں کے کیمپ میں موجود مرد جب تک یہ پیغام سمجھ نہ لیں کہ اس قسم کا رویہ قابلِ برداشت نہیں ان پر یہ پابندی عائد رہے گی۔

خیال رہے کہ یہ صورتحال کولون میں جرمنی کے دیگر شہروں میں نئے سال کی آمد کے موقع پر خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کے بعد پیدا ہوئی ہے۔

تفتیش کاروں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ حملوں میں عرب اور افریقہ سے تعلق رکھنے والے پناہ گزین شامل ہیں۔

2015 میں جرمنی میں 11 لاکھ سے زائد افراد نے پناہ کا دعویٰ کیا تھا۔

بورنہیم میں سماجی معاملات کے سربراہ نے بتایا ہے کہ یہ علاقہ کولون کے جنوب میں 20کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اور یہ پابندی تارکینِ وطن مردوں کی جانب سے سوئمنگ کے لیے آنے والی خواتین اور وہاں موجود عملے کے ساتھ غیر مناسب رویے کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں ہوٹل انتظامیہ نے بتایا ہے کہ مردوں کے ایک گروہ نے تیراکی کے لیے جانے والی لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا اور ان پر جملے کسے۔ جس کا مقصد خواتین کو وہاں سے جانے پر مجبور کرنا تھا۔

اگرچہ جرمنی نے فروری میں تارکینِ وطن کے لیے نئے کارڈز جاری کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ قانون نافذ کیسے ہوگا۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ سوئمنگ پول میں داخلے پر پابندی کولون حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کی جانب اشارہ ہے۔

عوامی رائے کے جائزہ کے لیے کیے جانے والے پولزمیں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تارکین وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے عوامی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔