جرمنی کا جرائم میں ملوث پناہ گرینوں کو ملک بدر کرنے پر غور

،تصویر کا ذریعہEPA
جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل کا کہنا ہے کہ کولون شہر میں جنسی حملوں کے بعد جرمنی جرائم میں ملوث ہونے والے پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے بارے میں دوبارہ غور کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ جرمنی کے قوانین کی پابندی نہیں کرسکتے انھیں ’واضح اشارہ‘ دینا ضروری ہے۔
سال نو کی تقریب کے موقع پر کولون شہر میں خواتین پر جنسی حملہ کرنے والوں کا جو حلیہ بتایا جارہا ہے اس کے مطابق ان میں سے بیشتر افراد کا تعلق شمالی افریقہ اور عرب سے ہے۔
جرمن چانسلر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سال نو کے موقع پر جو کچھ بھی ہوا وہ قابل قبول نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ ایسےگھٹیا جرائم ہیں کہ جرمنی جیسے ملک کو قطعی قابل قبول نہیں ہیں۔ان جرائم کا شکار ہونے والی خواتین کا یہ احساس کہ وہ بغیر کسی تحفظ کے مردوں کے رحم و کرم پر تھیں ذاتی طور پر مجھے بالکل بھی برداشت نہیں ہے۔‘
’اسی لیے یہ اہم ہے کہ جو کچھ بھی ہوا اسے سامنے لایا جائےگا۔ ہم اس کی بارے میں چھان بین کریں گے تاکہ ان افراد کو یہ واضح اشارہ ملے کہ جو ہمارے قوانین پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ہم انھیں جرمنی سے ملک بدری کر سکتے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ.
اس دوران اس طرح کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ سال نو کی تقریب کے موقع پر فن لینڈ اور سوئٹزرلینڈ میں بھی ایسے ہی جنسی حملوں کے واقعات پیش آئے تھے۔
حملہ آوروں کی حلیے سے ان کی شناخت عرب یا شمالی افریقی ہونے سے جرمنی میں لوگ چوکنے ہوگئے ہیں کیونکہ حالیہ مہینوں میں لاکھوں پناہ گزین جرمنی اور یوروپ پہنچے ہیں۔
جرمنی کے وزیر انصاف ہیکو ماس نے بھی ایسے افراد کو ملک بدر کرنے کی وکالت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی پناہ گزین جرائم کا مرتکب پایا گیا اس کی ملک بدری قابل فہم عمل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سے قبل کولون میں سینکڑوں افراد نے سالِ نو کے جشن کی شام خواتین پر جنسی حملوں اور چوری کی وارداتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔
مظاہرین میں سے بعض افراد نے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سے کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے بینر اُٹھا رکھے تھے۔
انگیلا میرکل نے اِن ’قابلِ نفرت حملوں‘ پر شدید غم وغصے کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ واقعے کے ذمہ داروں کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
منگل کی شام 300 سے زائد افراد نے جن میں زیادہ تر خواتین تھیں، جائے حملہ کے قریب اِن پُرتشدد واقعات کے خلاف مظاہرہ کیا۔
بعض پلے کارڈز پر یہ تحریریں درج تھیں: ’مسز میرکل! آپ کہاں ہیں؟ آپ کا کیا کہنا ہے؟ اس نے ہمارے کانوں میں خطرے کی گھنٹی بجادی ہے!‘







