’برہنہ تصاویر، ٹیپ ضائع کر دیں‘

برہنہ تصاویر

،تصویر کا ذریعہCA

،تصویر کا کیپشنابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عدالتی فیصلے کا نفاذ کس طرح ہو گا

جرمنی کی سب سے اعلیٰ عدالت نے ایک شخص کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی سابق پارٹنر کی انتہائی ذاتی تصویروں اور وڈیوز کو ضائع کر دے کیونکہ یہ پارٹنر کے پرائیویسی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

وفاقی عدالت نے اس شخص کو جو کہ فوٹو گرافر ہیں حکم دیا کہ وہ اپنی پارٹنر کی عریاں تصاویر اور جنسی ٹیپ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے خواہ ان کا ارادہ ان تصویروں اور وڈیوز کو شیئر کرنے کا نہ بھی ہو۔

خاتون نے شروع میں ایسی تصاویر پر اپنی رضا مندی ظاہر کی تھی لیکن جب ان کے درمیان تعلق ختم ہوا تو اس خاتون نے اپنی رضا مندی بھی ختم کر دی۔

یورپی ممالک میں جرمنی کے پرائیوسی قوانین سخت ترین ہیں۔

فیڈرل عدالت میں یہ مقدمہ اس لیے دائر ہوا کہ فوٹو گرافر اور ان کی پارٹنر کے درمیان بحث بڑھ گئی تھی کہ آیا فوٹو گرافر کو انتہائی نجی نوعیت کی تصاویر اور وڈیوز ڈیلیٹ کرنی چاہییں یا نہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہر شخص کو یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جنسی زندگی کے بارے میں جسے چاہے اور جس شکل میں چاہے بتائے۔ عدالت نے کہا کہ اگر فوٹو گرافر یہ تصاویر اور وڈیوز اپنے پاس رکھتے ہیں تو انھیں اپنی سابق محبوبہ پر ایک خاص ’اختیار مل جائے گا جسے وہ فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘

لیکن عدالت نے کہا اب جبکہ دونوں کے درمیان رشتہ ختم ہو چکا ہے اس شخص کو فوٹو اور وڈیوز اپنے پاس رکھنے کا کوئی حق نہیں۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ اس فیصلے کا نفاذ کیسے ہوگا۔

عریاں تصاویر کے انٹرنیٹ پر شائع ہو جانے کے حالیہ واقعات کی وجہ سے متاثر ہونے والوں کے حقوق کی حوالے سے تنازع شروع ہو چکا ہے۔ کئی ممالک نے ’انتقامی طور پر عریاں تصویروں کے استعمال‘ کو جرم قرار دے دیا ہے۔