پلے بوائے: برہنہ خواتین کی تصاویر نہ شائع کرنے کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہAP
مشہور امریکی رسالے پلے بوائے نے اپنے رسالے کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کے لیے برہنہ خواتین کی تصاویر کی اشاعت روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اس کے امریکی مالک کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں عریانیت فرسودہ بن چکی ہے اور فحش رسالے اب تجارتی اعتبار سے زیادہ فعال نہیں رہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رسالے کی اشاعت جو 70 کے عشرے میں 56 لاکھ تھی اب کم ہوکر آٹھ لاکھ رہ گئی ہے۔
رسالہ اب بھی خواتین کی ہیجان خیز تصاویر کی اشاعت کرے گا تاہم وہ مکمل طور پر برہنہ نہیں ہوں گی۔
بظاہر اس بات کا فیصلہ گذشتہ ماہ پلے بوائے کے بانی اور موجودہ مدیرِ اعلیٰ ہیوگ ہیفنر کے درمیان ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا۔
نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ رسالے کے انتظامی سربراہان نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پلے بوائے، جو سنہ 1953 میں شروع کیا گیا تھا، میں آغاز سے لے کر اب تک کئی ساری تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
نیویارک میں بی بی سی کے نامہ نگار نِک برائنٹ کا کہنا ہے کہ ایسا دور بھی گزرا جب کنگ جونیئر مارٹن لوتھر، میلکم ایکس اور جمی کارٹر جیسی قد آور شخصیات کے انٹرویوز نے پلے بوائے کو ثقافتی اور سیاسی طور پر بہت شہرت بخشی۔
پلے بوائے کی ویب سائٹ پہلے ہی فیس بُک اور ٹوئٹر جیسے سماجی میڈیا کے پلیٹ فارموں تک رسائی حاصل کرنے کے لیے عریانی پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ اور اس عمل کی وجہ سے اس کی ویب سائٹ پر لوگوں کی آمد ورفت میں چار گُنا تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہمارے نامہ نگار کے مطابق ایک بڑا نام، جو طویل عرصے سے عریانی سے منسوب رہا ہے، اب بظاہر پوری نیک نیتی کے ساتھ اس عمل کے ذریعے خود کو صاف شفاف بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔







