’جرمنی بڑی تعداد میں تارکین وطن واپس آسٹریا بھیج رہا ہے‘

آسٹریا کے بالائی علاقوں کے پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ روزانہ واپس بھجوائے جانے والے تارکینِ وطن کی تعداد 60 سے 200 تک پہنچ چکی ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنآسٹریا کے بالائی علاقوں کے پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ روزانہ واپس بھجوائے جانے والے تارکینِ وطن کی تعداد 60 سے 200 تک پہنچ چکی ہے

آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ رواں ماہ کے آغاز سے ہی روزانہ کی بنیاد پر جرمنی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کو واپس آسٹریا بھجوا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد میں بہت سے ایسے ہیں جن کے پاس اصل دستاویزات نہیں ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جو جرمنی کے بجائے کسی اور ملک جانا چاہتے ہیں۔

<link type="page"><caption> میرکل تارکینِ وطن کے لیے سخت قوانین کی خواہاں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160109_germany_tougher_migrant_laws_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز کی شام جرمنی کے شہر کولون میں خواتین پر ہونے والے حملوں کا الزام تارکینِ وطن پر لگایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں جرمنی کی چانسلر پر بھی دباؤ پڑا ہے۔

ادھر مشرقی جرمنی میں مسلمانوں کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے۔ وہاں ہزاروں مظاہرین یہ الزام عائد کر رہے ہیں کہ چوری اور خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی وجہ تارکینِ وطن کی آمد ہے۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو آسٹریا واپس بھجوایا جا رہا ہے وہ شامی باشندے نہیں ہیں۔

آسٹریا کی پولیس نے کہا ہے کہ ان تارکینِ وطن میں زیادہ تر افغان، مراقش اور الجیریا کے باشندے شامل ہیں۔

زیادہ تر تارکین وطن کا تعلق مشرق وسطی کے جنگ زدہ علاقوں سے ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنزیادہ تر تارکین وطن کا تعلق مشرق وسطی کے جنگ زدہ علاقوں سے ہے

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو میں آسٹریا کے بالائی علاقوں کے پولیس ترجمان نے بتایا ہے کہ روزانہ واپس بھجوائے جانے والے تارکینِ وطن کی تعداد 60 سے 200 تک پہنچ چکی ہے۔

گذشتہ ہفتےسویڈن کے حکام نے بھی ڈنمارک سے آنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے۔کیونکہ یہ علاقہ تارکینِ وطن کی پسندیدہ جگہ ہے۔

قبل ازیں ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے سال کے آغاز پر کولون میں خواتین پر حملے میں ملوث افراد ’عین ممکنہ‘ طور پر تارکین وطن اور زیادہ ترشمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے عرب تھے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے جرمن زبان میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے الزام میں ریاستی پولیس کی جانب سے 19 افراد زیر تفتیش ہیں۔

مذکورہ 19 مشتبہ افراد میں سے 14 کا تعلق مراکش اور الجیریا سے ہے جبکہ دس افراد جرمنی میں پناہ کے طالب ہیں۔ ان دس افراد میں سے نو افراد ستمبر سنہ 2015 کے بعد ملک میں داخل ہوئے تھے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ نو افراد ممکنہ طور پر جرمنی میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہوئے ہیں۔

کولون کے علاوہ دو دوسرے شہروں میں بھی جنسی حملے ہوئے تھے لیکن وہ محدود پیمانے پر تھے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکولون کے علاوہ دو دوسرے شہروں میں بھی جنسی حملے ہوئے تھے لیکن وہ محدود پیمانے پر تھے

کولون کی مقامی پولیس کی جانب سے مدد کے لیے مزید نفری طلب نہ کرکے اور عوام کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کے معاملے میں ’سنگین غلطیاں‘ ہوئی ہیں۔

کولون اور دیگر شہروں میں خواتین پر کیے جانے والے حملوں کی سنگینی نے جرمنی کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

500 سے زائد مجرمانہ کاموں کی شکایات درج کروائی گئی تھیں جن میں 40 فیصد شکایات جنسی طور پر ہراساں کرنے کی تھیں۔

حالیہ حملے جو بظاہر کولون حملوں کے جواب میں کیے گئے ہیں ان پر اتوار کے روز حکومت کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

خیال رہے کہ سنہ 2015 میں جرمنی پہنچنے والے پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً 11 لاکھ کے قریب ہے۔