میرکل تارکینِ وطن کے لیے سخت قوانین کی خواہاں

کولون میں ہونے والے حملے کے بعد انگیلا میرکل پر پناہ گزینوں کے متعلق ان کے موقف کے لیے سوال ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکولون میں ہونے والے حملے کے بعد انگیلا میرکل پر پناہ گزینوں کے متعلق ان کے موقف کے لیے سوال ہو رہے ہیں

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے کولون میں سالِ نو کے موقع پر خواتین پر جنسی حملوں کے بعد جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں تجویز کی ہیں۔

ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ایسے پناہ گزینوں کی ان کے آبائی وطن واپسی کا عمل آسان ہو جائے گا۔

<link type="page"><caption> جرمنی کا جرائم میں ملوث پناہ گرینوں کو ملک بدر کرنے پر غور</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160108_germany_cologne_sex_attack_sz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> جرمنی میں سالِ نو کے جشن پر خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایات</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2016/01/160107_cologne_sex_attack_police_rethink_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

ان حملوں کے متاثرین کا کہنا ہے کہ انھیں ہراساں کرنے والے افراد بظاہر شمالی افریقہ اور عرب ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔

31 دسمبر کی شب ہونے والے حملوں کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تارکینِ وطن کے لیے جرمنی کی کھلے دروازے کی پالیسی پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

سنیچر کو کولون میں ہی تارکینِ وطن کے لیے جرمن پالیسی کے مخالفین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔

پولیس نے دائیں بازو کی پناہ گزین مخالف پیگیڈا تحریک کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے آبی توپ اور مرچوں والے سپرے کا استعمال کیا۔

کولون حملے کے لیے پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنکولون حملے کے لیے پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

اطلاعات کے مطابق چانسلر میرکل کی مذمت میں نعرے لگانے والے مظاہرین نے پولیس پر بوتلیں اور پٹاخے بھی پھینکے۔

کولون میں سالِ نو کے موقع پر پیش آنے والے واقعات کی تفتیش کے سلسلے میں پولیس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور پولیس کے سربراہ کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔

اس حملے کے شکار افراد نے اسے بدنظمی سے تعبیر کیا ہے جبکہ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور ڈکیتیوں کے درجنوں مقدمے درج کرائے گئے ہیں۔

حملے کا شکار لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے بظاہر کچھ نہیں کیا گیا۔

جرمن چانسلر نے سنیچر کو مینز میں کرسچیئن ڈیموکریٹ پارٹی کی قیادت سے ملاقات کے بعد جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستیں قبول نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔

اس نئے منصوبے کو جرمن پارلیمان کی منظوری درکار ہوگی اور اس کے تحت ایسے افراد جن کی جرائم پیشہ سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہو، انھیں بھی ملک بدر کیا جا سکے گا۔

گذشتہ دنوں کوئی تین سو افراد نے اس حملے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہ.

،تصویر کا کیپشنگذشتہ دنوں کوئی تین سو افراد نے اس حملے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا

ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں انگیلا میرکل نے کہا کہ ’جب جرائم ہوں گے اور لوگ خود کو قانون سے بالاتر سمجھیں گے تو انھیں اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔‘

جرمنی کے موجودہ قانون کے مطابق کسی پناہ گزین کو صرف اسی وقت زبردستی واپس اس کے ملک بھیجا جا سکتا ہے کہ اگر اسے تین سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا ہو اور اگر اسے اپنے ملک میں جان کا خطرہ لاحق نہ ہو۔

کولون کے حملہ آوروں کی شناخت شمالی افریقی ممالک اور عرب ممالک کے باشندوں کی صورت سے مماثلت رکھنے والوں کے طور پر کی گئی ہے اور اس سے جرمنی میں خطرے کی ایک گھنٹی بج اٹھی ہے کیونکہ گذشتہ سال وہاں تقریبا دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے ہیں۔

دریں اثنا حکام نے متنبہ کیا ہے کہ تارکینِ وطن مخالف گروپ ان حملوں کا فائدہ اٹھا کر نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہمبرگ اور سٹوٹگارٹ میں بھی کولون جیسے حملے کی اطلاعات ہیں۔