’شام کے تنازعے پر مذاکرات جمعے کو منعقد ہوں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شامی تنازعے کے سیاسی حل کے لیے مذاکرات آئندہ جمعے کو جنیوا میں متوقع ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر سٹافن ڈی میستورا نے تسلیم کیا ہے کہ مذاکرات کے شرکا کے بارے میں تاحال بات چیت جاری ہے۔
ان مذاکرات کی ترجیحات میں وسیع جنگ بندی اور خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کو روکنا اور متاثرین کی امداد میں اضافہ کرنا ہے۔
سٹافن ڈی میستوراکی جانب سے مذاکرات کی تاریخ کا اعلان ایے ایسے وقت کیا گیا ہے جب حلب میں باغیوں کی چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں کم از کم 23 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس سے پہلے شرکا کے حوالے سے پائے جانے والے اختلافات کی وجہ مذاکرات میں تاخیر ہو چکی ہے تاہم سٹافن ڈی میستورا کے مطابق توقع ہے کہ جمعرات تک شرکا کو دعوت نامے بھیج دیے جائیں گے۔
سٹافن ڈی میستورا کے مطابق ان مداکرات میں دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ سے منسلک دیگر گروہوں کی شرکت کے امکان کو مسترد کیا جا چکا ہے تاہم دیگر باغی گروہوں کی شرکت کے بارے میں مشاورت جاری ہے۔
ترکی نے مذاکرات میں شام کے کرد گروہوں کی شرکت کی مخالفت کی ہے کیونکہ وہ گروہوں کو’دہشت گرد‘ سمجھتا ہے اور اس کے نزدیک ان کی شرکت سے مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔
سٹافن ڈی میستورا کے مطابق مذاکرات کا پہلا مرحلہ دو سے تین ہفتوں پر مشتمل ہو گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے ساتھ انھوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات میں کافی گرما گرمی ہو سکتی ہے جس میں متعدد بار بائیکاٹ اور دوبارہ شرکت متوقع ہے۔
گذشتہ ماہ ہی شامی حکومت نے کہا تھا کہ وہ ملک میں جاری شورش کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
واضح رہے کہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔







