’ہزاروں شامی پناہ گزین اردن میں داخل ہونے کے منتظر‘

اردن پہلے ہی چھ لاکھ 33 ہزار شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں سے 43 لاکھ، 90 ہزار اقوام متحدہ کی جانب سے رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشناردن پہلے ہی چھ لاکھ 33 ہزار شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں سے 43 لاکھ، 90 ہزار اقوام متحدہ کی جانب سے رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں

اردن نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس کی شمالی سرحد پر ایک دور دراز صحرائی علاقے میں پھنسے ہزاروں شامی پناہ گزین اردن میں داخل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اردن کے حکومتی ترجمان محمد مومانی نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ’ان شامی پناہ گزینوں کی تعداد 12,000 ہے تاہم اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اقوامِ متحدہ نے بھی گذشتہ ماہ اسی طرح کا ایک تخمینہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔‘

محمد مومانی کے مطابق اردن میں روزانہ 50 سے 100 شامی پناہ گزینوں کو داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے جن میں خواتین، بچوں، بوڑھے اور بیمار افراد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اردن کی حکومت کے ترجمان کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے تمام پناہ گزینوں کو ایک ساتھ اردن میں داخل ہونے کی اجازت بعید از قیاس ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس آٹھ دسمبر کو اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین نے کہا تھا کہ اردن اور شام کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہزاروں افراد ’مایوس کن حالاتِ زندگی‘میں رہ رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اردن کی خاتون ترجمان ملیسا فلیمنگ نے صحافیوں کو بتایا کہ تقریباً 11,000 افراد رقبان جبکہ 1,000 افراد عراق، شام اور ادرن کی سرحد پر ملنے والے ایک پوائنٹ پر موجود ہیں۔

ملیسا فلیمنگ نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ان افراد کو اردن میں داخل ہونے کی اجازت اور مناسب امداد فراہم نہ کی گئی تو آنے والے مہینوں میں ان کی ’زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔‘

خیال رہے کہ اردن پہلے ہی چھ لاکھ 33 ہزار شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جن میں سے 43 لاکھ، 90 ہزار اقوام متحدہ کی جانب سے رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں۔