شامی پناہ گزینوں پر دروازے بند ہو رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters
دو عالمی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ شام کے ہمسایہ ممالک ان کہ ملک میں داخل ہونے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد بتدریج کم کر رہے ہیں۔
گذشتہ اکتوبر میں صرف 18500 شامی باشندے ملک کر چھوڑ کر گئے لیکن 2013 سے ہر ماہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ شامی باشندوں نے ہمسایہ ممالک میں پناہ حاصل کی۔
شام کی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک تین ملین لوگ شام چھوڑ کر جا چکے ہیں جب کہ لاکھوں بےگھر ہو چکے ہیں۔
ناروے کی ریفیوجی کونسل اور انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کی ایک جوائنٹ رپورٹ کے مطابق بہت سے شامی باشندے جو کہ ملک چھوڑ کر محفوظ جگہ پر پناہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، اب شام میں ہی پھنس چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ناروے ریفیوجی کونسل کے سیکرٹری جنرل جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ عام شہری نکل نہیں سکتے اور امداد شام کے اندر نہیں جا سکتی، وہاں پر مرد، خواتین اور بچوں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے جن کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور انہیں امداد کی ضرورت ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری مصیبت زدہ شامی باشندوں کی مدد کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس ساری صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خطے کو درکار مدد فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ہم لاکھوں شامی باشندوں کو بین الاقوامی امداد سے محروم دیکھ رہے ہیں۔
شامی پناہ گزینوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو لبنان، ترکی، اردن اور عراق نے پناہ دی ہے۔ اس کے برعکس وہ ممالک جو کہ شام کے قریب نہیں انھوں نے صرف پچاس ہزار یعنی دو فیصد پناہ گزینوں کو پناہ دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ نے محض 166 شامی باشندوں کو قبول کیا تو فرانس اور برطانیہ نے بھی صرف چند سو کو پناہ دی۔
امدادی ایجنسیوں نے ترقی یافتہ ممالک سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد پانچ فیصد شامی باشندوں کو پناہ دینے کی اجازت دی جائے۔
منگل کے روز مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا تھا کہ شامی پناہ گزینوں کو شدید سردی سے بچانے کے لیے انھیں مزید 37 ملین پاؤنڈز کی ضرورت ہے۔







