بشار الاسد اس خوفناک جنگ میں بچے کیسے؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, فرینک گارڈنر
- عہدہ, ایڈیٹر بی بی سی مڈل ایسٹ
نوجوان استانی لمبے کوٹ اور سکرٹ میں ملبوس تھی اور اس نے اپنے بالوں کو سفید سکارف سے ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ اپنی شناخت چھپانا چاہتی ہے کیونکہ شناخت ظاہر ہونے سے اس کے لیے مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے ہو سکتے ہیں۔
وہ دمشق کے نواح میں فری سیریئن آرمی سے منسلک ایک جنگجو گروپ کے زیر کنٹرول کابون قصبے کے ایک سکول میں پڑھاتی ہے۔
میں گذشتہ گرمیوں میں حکومت کے زیر کنٹرول دمشق سے اس علاقے میں داخل ہوا۔ فری سیریئن آرمی سے منسلک جنگجو گروپ کے باریش کمانڈروں کی بربریت کو ناپسند کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ کر کے شام میں ترکی کی طرح کی اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔
سکول میں کھیلتے بچوں کی ہلاکتیں
استانی دھیمے مگر غصے سے بھرے ہوئے لہجے میں سکول کے پارک میں گذشتہ ہفتے ہونے والے ان دو دھماکوں کا قصہ سنا رہی تھی جن میں سکول کے 15 بچے ہلاک ہو گئے تھے۔
استانی ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ دھماکوں کے بعد دھواں ختم ہوتے ہی اسے زمین پر تڑپتے ہوئے، مرتے ہوئے بچے نظر آئے اور انھوں نے ان بچوں کے لیے دعا مانگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نے دھماکوں والی صبح دو 11 سال بچوں کو شرارت کرنے پر کلاس سے باہر بھجوا دیا تھا۔ وہ دونوں پارک میں اکٹھے کھیلتے ہوئے دھماکوں کی نذر ہو گئے اور اسی دن انھیں ایک دوسرے کے قریب دفن کیا گیا۔
’ان بچوں نے ایسا کیا جرم کیا تھا؟ ان کے پاس کون سے ہتھیار تھے؟‘ استانی نے مدھم لیکن سخت لہجے میں مجھ سے یہ سوالات کر ڈالے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھیں کچھ نہیں پتہ کہ یہ دھماکے کس نے کروائے ہیں۔ شام کے ہر باشندے کی طرح یہ استانی بھی تمام متحارب گروپوں کی کارروائیوں سے پریشان ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صدر اسد کا فرض ہے کہ بچوں کو جنگ سے دور رکھے، انھیں بچوں پر شیلنگ نہیں کرنی چاہیے، تمام گروپوں کو بچوں پر حملے بند کرنا ہوں گے۔
شام پر کڑا اور برا وقت:
کیا شام میں جاری خوں ریز جنگ ختم ہونے کے کوئی امکانات ہیں؟ میرے خیال میں مستقبل قریب میں اس کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اب تک دو لاکھ افراد اس جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ شام کی آدھی سے بھی زیادہ آبادی یعنی تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا۔
2011 میں صدر اسد کے خلاف کچھ گروپ اٹھ کھڑے ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ مزاحمت ایک نہ ختم ہونے والی لڑائی میں تبدیل ہو گئی۔
اسد مخالفین کی یہ سوچ غلط ثابت ہوئی کہ وہ ان کا اقتدار چند مہینوں میں ختم کر سکیں گے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
صدر اسد مصر، لیبیا اور تیونس کے رہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ مقبول تھے لیکن کرپشن اور مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے باعث ان کے خلاف مزاحمت میں شدت آئی۔
بشارالاسد ابھی تک اپنی حکومت بچانے میں کامیاب رہے ہیں لیکن یہ عوام کی حمایت کے بغیر ناممکن ہوت۔
سرکاری فوج کی صدر اسد سے وفاداری
صدر اسد پر انتہائی برا وقت آیا اور وہ شام کے وسیع علاقے کا کنٹرول کھو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ڈٹے رہنے میں کامیاب رہے ہیں۔
بشرالاسد کی حکومت کو ایران، روس اور لبنان کی حزب اللہ کی جانب سے بھرپور مالی اور سفارتی تعاون حاصل رہا لیکن یہ بھی اہم ہے کہ ملک کے اندر بھی اسد اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔
لڑائی کے اوائل میں شام کی سرکاری فوج میں بڑے پیمانے پر وفاداریاں تبدیل کرنے کی پیش گوئیاں کی گئیں لیکن ایسا با لکل نہیں ہوا۔
اسد کے مخالفین تقسیم ہیں
شام کی فوج کے زیادہ تر افسران جن سے میں ملا ہوں، صدر اسد کی طرح علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن ہر یونٹ میں اب بھی سنی فرقے کے لوگ موجود ہیں۔
صدر اسد کی حکومت کے ابھی تک قائم ہونے کی ایک وجہ باغی گروپوں کے اختلافات بھی ہیں۔ لیکن اسد مخالفین مغربی ممالک پر ان کی مدد نہ کرنے کو اپنی ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔
روس بشار الاسد کی حمایت کر رہا ہے تو دوسری طرف امریکہ اسد کے خلاف لڑنے والے جہادی گروپوں پر بمباری میں مصروف ہے۔
شام کی جنگ اب تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔







