شامی باغی ’یرموک پناہ گزین کیمپ سے نکل جائیں گے‘

اطلاعات کے مطابق خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور ان کے خاندان اقوامِ متحدہ کے ثالثی معاہدے کے تحت شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ یرموک کے اندورنی اور بیرونی علاقوں سے نکل سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ معاہدہ ابھی نازک مرحلے میں ہی ہے تاہم اس میں شامی حکومت اور اس کے باغی جنگجو شامل ہیں۔
اس معاہدے کے تحت دولتِ اسلامیہ کے متعدد شدت پسندوں کو ان کے مضبوط گڑط رقہ سے نکلنے کا محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے۔
اس معاہدے کا مقصد فلسطینی پناہ گزین یرموک کیمپ کو محفوظ بنانا ہے تاکہ 18,000 افراد جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ یہاں پھنسے ہوئے ہیں کو امداد دی جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہAmaq
واضح رہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے رواں برس اپریل میں اس کیمپ میں داخل ہو کر اس کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یرموک کا یہ پناہ گزین کیمپ کو دولتِ اسلامیہ، ان کے حلیف القاعدہ کے النصرہ فرنٹ، فلسطینی حکومت کے حامی اور مخالف شدت پسندوں کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔
اس مجوزہ معاہدے کے مطابق جنگجو جمعے تک یرموک کیمپ سے انخلا شروع کر سکتے ہیں۔
ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس معاہدے میں کون سے گروہ ملوث ہیں تاہم برطانیہ میں قائم انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے شامی ادارے سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ اور ان کے خاندان کے زخمی ارکان یرموک کیمپ سے نکلنے والوں میں شامل ہوں گے۔
سیریئن آبزرویٹری کا دعویٰ ہے کہ اس مقصد کے لیے متعدد بسیں پہلے ہی ال قدم پہنچ بھی چکی ہیں۔
واضح رہے کہ یرموک کیمپ سنہ 1948 میں ہونے والی عرب اسرائیل لڑائی کے دوران بھاگنے والے فلسطینوں کے لیے قائم کیا گیا تھا۔
شام میں سنہ 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی سے پہلے یرموک کیمپ میں 1,50,000 فلسطینی پناہ گزین رہائش پذیر تھے۔
یرموک کیمپ میں گذشتہ دو سالوں سے پھنسے ہوئے افراد میں 3,500 بچے بھی شامل ہیں جن کے پاس کھانے، پانی اور صحت کی سہولت نہیں ہے۔







