شام امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار

،تصویر کا ذریعہReuters
شام کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں جاری شورش کا سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
شام کے وزير خارجہ ولید معلم کا کہنا ہے کہ ’جیسے ہی مذاکرات میں شامل ہونے والے حزب مخالف کے مندوبین کی فہرست ہمیں دے دی جائے گی ہم مذاکرات کے لیے تیار ہو جائیں گے۔‘
مذاکرات میں شامل سبھی جماعتیں کو، جنھیں عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے، اس بات پر متفق ہونا ہو گا کہ جن تنظیموں کو ’شدت پسند ‘ قرار دیا جائے انھیں اس بات چیت میں شامل نہ کیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ آئندہ برس جنوری کے آخر میں جنیوا میں یہ مذاکرات کرائے گی۔
واضح رہے کہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ولید معلم چین کے دورے پر ہیں اور وہاں انھوں نے صحافیوں کو بتایا: ’شام کی حکومت جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکرات ملک میں مضبوط حکومت قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘
اقوام متحدہ چاہتی ہے کہ شام میں جنگ بندی ہو اور ملک میں امن کے قیام کے لیے سیاسی کوششیں کی جائیں۔ اطلاعات کے مطابق آئندہ 18 ماہ میں شام میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات ہوں گے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کا ہدف ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو اقوام متحدہ کے جنیوا دفتر کے سربراہ مائیکل مولر نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات جنوری میں متوقع ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’تقریباً ہر کوئی چاہتا ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں تاکہ ہم جلد سے جلد شام کی صورتِ حال کا سیاسی حل تلاش کر سکیں۔‘







