یمن میں شادی کی تقریب پر بمباری سے 13 ہلاک

شادی کی تقریب کی میزبانی ایک قبائلی رہنما کر رہے تھے جو حوثی باغیوں کی حمایت کے سلسلے میں جانے جاتے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنشادی کی تقریب کی میزبانی ایک قبائلی رہنما کر رہے تھے جو حوثی باغیوں کی حمایت کے سلسلے میں جانے جاتے ہیں

یمن میں دارالحکومت صنعا کے قریب باغیوں کے زیرانتظام کے قصبے میں شادی کی تقریب پر فضائی بمباری سے کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ حملہ صنعا سے 100 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع سنبان قصبے میں کیا گیا۔

تاحال یہ واضح نہیں ہے یہ حملہ کس نے کیا تاہم یمن میں سعودی عرب کی سربراہی میں اتحاد حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔

گذشتہ مہینے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر مخا میں <link type="page"><caption> شادی کی تقریب میں فضائی بمباری سے کم از کم 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150928_yemen_strike_hits_wedding_zz.shtml" platform="highweb"/></link>۔

اتحادی افواج نے اس حملے سے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا تھا۔

حالیہ واقعے میں شادی کی تقریب کی میزبانی ایک قبائلی رہنما کر رہے تھے جو حوثی باغیوں کی حمایت کے بارے میں جانے جاتے ہیں۔

اس حملے میں کم از کم 25 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ 26 مارچ سے سعودی عرب کی سربراہی میں اتحاد کی فضائی بمباری اور زمینی لڑائی میں اب تک 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2355 عام شہری بھی شامل ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق یمن میں دو کروڑ دس لاکھ افراد یا 80 فی صد آبادی کو کسی نہ کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے اور تقریباً 15 لاکھ افراد اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ یمن کے<link type="page"><caption> صدر منصور ہادی چھ ماہ تک بیرونِ ملک رہنے کے بعد گذشتہ ماہ عدن واپس لوٹ آئے ہیں</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150923_yemen_aden_hadi_return_sz.shtml" platform="highweb"/></link>۔ وہ رواں سال مارچ میں حوثی باغیوں کی عدن کی طرف پیش قدمی شروع ہونے کے بعد ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

صدر ہادی کی فوجیں اور سعودی عرب کی سربراہی میں اتحاد اب شمال کی جانب باغیوں کے زیرانتظام صنعا کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں۔