’ہم گھبرا گئے اور اللہ اللہ کرنے لگے‘

،تصویر کا ذریعہ
یمن کی صورت حال صدر عبد الربہ منصور ہادی کی وفادار فوج اور باغی حوثی قبائل کے درمیان جنگ کے نتیجے میں خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے۔
جنگ میں شدت آنے کے ساتھ مارچ سے اب تک تقریبا پانچ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جن میں 2355 عام شہری ہیں۔
جبکہ جنگ یمن کے 22 صوبوں میں سے 21 صوبوں تک پھیل چکی ہے اور اس کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 15 لاکھ افراد بےگھر ہو گئے ہیں۔
بنیادی ڈھانچوں کی بربادی اور سعودی عرب کے اتحاد کے ذریعے باغیوں پر بحری پابندیوں کی وجہ سے ملک کی 80 فیصد آبادی متاثر ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے گذشتہ ہفتے پیر سے جمعے کے درمیان ہر دن ایک یمنی سے بات کی اور صورت حال جاننے کی کوشش کی۔ یہاں پیش ہیں ان کے خیالات:
پیر
احمد مرجم نے دارالحکومت صنعا میں بتایا کہ ’فضائی حملہ روزانہ کا معمول ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAP
انھوں نے کہا: ’آج پیر ہے۔ بمباری ہو رہی ہے۔ ہر روز بمباری ہوتی ہے۔ ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ ہماری روز مرہ زندگی بن چکی ہے۔دو دن قبل ہم نے فیس بک پر پڑھا تھا کہ ایک بم ہمارے پڑوس میں ہمارے مکان سے صرف 200 میٹر کی دوری پر گرا تھا اور اس سے ہمارے پڑوسی کا گھر تباہ ہو گیا تھا۔
’ہم گھبرا گئے اور اللہ اللہ کرنے لگے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں خوفزدہ رہتے ہیں کہ بم ہمارے سر پر نہ گرے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل
ابوالانور سلیم اجار سے شمالی شہر حجاہ میں بات کی گئی جن کا کہنا ہے کہ ان کے دوست کی اہلیہ جو کہ کینسر کی مریضہ ہیں ’وہ دوا کی کمی کے نتیجے میں چل بسیں۔‘
انھوں نے کہا: ’جنگ کی وجہ سے طبی مراکز متاثر ہیں۔ کینسر اور گردے کے مریضوں کو دوا کی شدید کمی ہے۔ جنگ کے سبب ضروری طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ پٹرول کی کمی کے سبب لوگ ہسپتال تک نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ اگر وہ وہاں تک پہنچ بھی جاتے ہیں تو انھیں دوا نہیں مل پاتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بدھ
بدری الحسنی سے ملاقات کی گئي جو کہ بحر احمر کے کنارے آباد شہر ہدیدہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قسمت سے ایک گھنٹے بجلی مل جاتی ہے۔ تاریکی مقدر بن چکی ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’بجلی کا بہت برا حال ہے۔ لوگوں کو بجلی دستیاب نہیں ہے۔ شہروں میں تو ایک گھنٹے مل بھی جاتی ہے، دیہات کی حالت مزید خراب ہے۔ لوگ جنریٹر خرید نہیں سکتے اور پٹرول نہیں ملتے ہیں۔ گھر میں روشنی کے لیے موم بتیاں ہی ہیں۔ ہم اس بارے میں بات نہیں کرسکتے، ہمیں اداسی اور تاریکی ہی نظر آتی ہے۔‘
جمعرات
جنوبی شہر ضمر میں رہنے والے سمیع الجبری نے خوراک کی شدید کمی کی شکایت کی۔ انھوں نے کہا کہ ’بعض اوقات درختوں سے کچھ توڑ کر کھانے کی نوبت آ جاتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
جمعہ
یمن کے جنوبی شہر تعز کے علی احمد نے بتایا کہ ان کا ’مستقبل گم ہو چکا ہے اور کوئي امید باقی نہیں رہی۔‘
انھوں نے کہا: ’آج جمعہ ہے، جمعے کا دن عام طور پر خوشی لاتا ہے لیکن گذشتہ جمعہ اداسی کا تھا کیونکہ فضائی حملہ ہوا تھا۔ شہر کے لوگ فضائی حملوں اور عدم استحکام کے سبب گھر بار چھوڑ کر کہیں اور چلے جانا چاہتے ہیں۔‘
’جو ہجرت کر سکتے ہیں وہ دیہات کی جانب یا سعودی عرب کے لیے اپنی کاروں میں روانہ ہو رہے ہیں لیکن یہاں سے جانا بھی مشکل ہے کیونکہ جگہ جگہ چیک پوسٹ ہیں اور آپ کو جانے سے روکا جاتا ہے۔‘







