یمن میں نمازِ عید کے دوران خودکش دھماکوں میں 25 ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
یمن کے دارالحکومت صنعا کی مسجد میں دو خودکش بم دھماکوں کے نتیجے میں کم ازکم 25 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق عیدالاضحٰی کی نماز کے دوران البلیلی مسجد میں دھماکہ ہوا۔
اطلاعات کے مطابق ایک خودکش حملہ آور مسجد کے اندر داخل ہوا جبکہ دوسرے نے مسجد کے داخلی دروازے پر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑایا۔
چند رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد کئی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔
حالیہ عرصے میں صنعا کو متعدد بار بم دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا جن کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ قبول کرتی رہی ہے۔ تاہم آج کے حملے کی دمہ داری کسی گروہ نے تسلیم نہیں کی۔
خیال رہے کہ دو روز قبل ہی یمن کے صدر منصور ہادی جلاوطنی کے بعد جنوبی شہر عدن پہنچے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متاثرہ مسجد پولیس اکیڈمی کے قریب واقع ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جولائی میں حکومت کی حامی ملیشیا اور فوجیوں نے سعودی عرب کی اتحادی فوج کی مدد سے حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوج کو عدن سے پیچھے دھکیل دیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
تاہم مقامی لوگوں کو شکایت ہے کہ عدن اب بدنظمی اور لاقانونیت کا شکار ہو چکا ہے جہاں القاعدہ یا دولتِ اسلامیہ سے منسلک جہادی شدت پسند گلیوں میں کھلے عام دیکھے جا سکتے ہیں اور مقامی انتظامیہ سہولیات بحال کرنے میں سست روی کا شکار ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق 26 مارچ کو یمن پر اتحادی فورسز کی بمباری کے بعد سے اب تک 4900 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 2200 عام شہری ہیں۔







