یمن میں فضائی حملہ، مرنے والوں کی تعداد 130 ہو گئی

یمن میں اب تک دو ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنیمن میں اب تک دو ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں

اقوامِ متحدہ اور مقامی طبی عملے کے مطابق سوموار کو یمن میں ایک شادی کی تقریب پر کیے جانے والے مبینہ فضائی حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب بڑھ کر 130 ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ حملہ جنوب مغربی ساحلی شہر المخا کے قریب وحیجا نامی گاؤں میں کیا گیا جہاں حوثی قبائل کا ایک شخص اپنی شادی کا جشن منا رہا تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہاں دو ٹینٹوں پر دو میزائل پھینکے گئے۔

تاہم سعودی عرب کی سربراہی والے اتحاد نے بمباری کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں دونوں فریق انسانی زندگی کی قدر نہیں کر رہے۔

سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس بات پر زور دیا کہ اس لڑائی کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور اس کے جاری رہنے سے صرف انسانی تکلیف اور تباہی میں اضافہ ہو گا۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق یمنی سکیورٹی اہلکاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فضائی حملہ کیا گیا تھا اور ایک سینیئر حکومتی اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ’غلطی سے کیا گیا۔‘

یمن میں رواں برس کے آغاز پر حوثی باغیوں کے ملک کے ایک بڑے حصے پر قبضے کے بعد مارچ سے سعودی عرب کی کمان میں اتحادیوں کی حوثی باغیوں کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں مارچ سے شروع ہونے والی فوجی کارروائیوں میں تقریباً 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے کم از کم 2355 عام شہری ہیں۔

گذشتہ ہفتے ہی یمن کے صدر عبدالربوہ ہادی منصور سعودی عرب سے جلاوطنی ختم کر کے واپس عدن پہنچے تھے۔

وہ رواں برس مارچ میں حوثی باغیوں کی پیش قدمی کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے۔