فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اماراتی طیاروں کی یمن پر بمباری

متحدہ عرب امارات کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بمباری میں حوثی باغیوں کے متعدد ٹھکانے نشانہ بنے ہیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمتحدہ عرب امارات کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بمباری میں حوثی باغیوں کے متعدد ٹھکانے نشانہ بنے ہیں

حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے والے اپنے 45 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں نے یمن میں کئی مقامات پر شدید بمباری کی ہے۔

یہ فوجی جمعے کو یمن کے دارالحکومت صنعا سے 250 کلومیٹر دور مشرق میں ماریب کے علاقے میں گولہ بارود کے ایک ذخیرے پر باغیوں کے راکٹ حملے کے نتیجے میں مارے گئے تھے۔

یہ متحدہ عرب امارات کی عسکری تاریخ کا سب سے بڑا جانی نقصان ہے۔

سنیچر کو سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس حملے میں اس کے بھی دس فوجی ہلاک ہوئے ہیں جب کہ خیال ہے کہ پانچ بحرینی فوجی بھی اس دھماکے کا نشانہ بنے۔

حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ حملہ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ’جرائم‘ کا بدلہ ہے۔

یمنی فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ فوجی ایک حادثے میں مارے گئے لیکن حوثیوں کا کہنا تھا کہ ان کے راکٹ سے ہی آگ لگی تھی

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنیمنی فوجی ذرائع نے کہا ہے کہ فوجی ایک حادثے میں مارے گئے لیکن حوثیوں کا کہنا تھا کہ ان کے راکٹ سے ہی آگ لگی تھی

متحدہ عرب امارات کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سنیچر کو ہونے والی بمباری میں حوثی باغیوں کے متعدد ٹھکانے نشانہ بنے ہیں۔

ایک اطلاع کے مطابق دارالحکومت صنعا پر ہونے والی بمباری میں 20 سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں۔.

اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں مارچ سے سعودی کمان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے دو ہزار سے زیادہ عام شہری ہیں۔

یمن میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد صدر منصور ہادی فرار ہو کر ساحلی شہر عدن منتقل ہو گئے تھے تاہم بعد میں حوثی باغیوں نے جب عدن کی جانب پیش قدمی شروع کی تو صدر وہاں سے فرار ہو سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔

حوثی باغیوں کی پیش قدمی پر سعودی عرب نے متعدد بار خبردار کیا تھا تاہم بعد میں اس نے یمن میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کا آغاز کر دیا اور کئی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ واپس لے لیا ہے۔