یمن میں فوجی آپریشن، مغوی برطانوی شہری بازیاب

گذشتہ چند مہینوں کے دوران یمن میں مختلف گروپوں کے درمیان لڑائی جاری ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنگذشتہ چند مہینوں کے دوران یمن میں مختلف گروپوں کے درمیان لڑائی جاری ہے

برطانیہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایک فوجی آپریشن کے نتیجے میں ایک برطانوی شہری کو یمن سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

رہا کروائے جانے والے برطانوی شہری کا نام رابرٹ سیمپل بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے سیمپل تیل کی تنصیبات پر ملازم تھے۔

سیمپل کو رواں برس فروری میں یمن میں یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی فوج نے برطانوی شہری کو رہائی دلوائی ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’ہم اس تعاون کے لیے متحدہ عرب امارات کے بہت مشکور ہیں۔‘

اس سے قبل رواں مہینے کے اوائل میں فروری میں یمن سے اغوا ہونے والی ایک فرانسیسی خاتون کو بھی بازیاب کروا لیا گیا تھا۔

رواں سال مارچ میں سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کیا تھا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنرواں سال مارچ میں سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کیا تھا

30 سالہ ازابیل پرائم یمن میں عالمی بینک کی معاونت سے مکمل ہونے والے منصوبے میں مشیر کی حیثیت سے کام کرتی تھیں اور 24 فروری کو دارالحکومت صنعا جاتے ہوئے انھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

اُن کی مترجم شیرین ماہکوئی کو بھی یرغمال بنایا لیا گیا تھا۔ تاہم انھیں مارچ میں بازیاب کر لیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ حالیہ چند مہینوں کے دوران یمن میں مختلف گروپوں کے درمیان لڑائی جاری ہے اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے مطابق ’ملک خانہ جنگی کی طرف جا رہا ہے۔‘

خطۂ عرب میں سرگرم القاعدہ گروپ نے اپنے مضبوط گڑھ سے ملک کے جنوب اور جنوب مشرقی علاقوں میں کئی مہلک حملے کیے ہیں۔

رواں سال مارچ میں سعودی عرب نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی آپریشن شروع کیا تھا۔ جس میں اب تک تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔