یمنی فوج کا فوجی اڈے پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہreuters
یمن میں حکومت کی حامی افواج نے باغیوں سے اپنے سب سے بڑے ہوائی اڈے کا قبضہ واپس لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
یہ بات حکومت کی اتحادی فوج کے ترجمان نے بی بی سی سے گفتگو میں بتائی ہے۔
عدن شہر کے شمال میں واقع العند نامی فوجی اڈے پر حالیہ دنوں میں شدید لڑائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یمنی فوج کو اس جنگ میں سرحد پار سے سعودی فضایہ کی مدد حاصل رہی جس کے نتیجے میں جولائی میں حوثی باغیوں سے عدن شہر کا کنٹرول واپس لینا ممکن ہوا۔
یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ العند نامی فوجی اڈا امریکی فوج کے زیرِ استعمال تھا جہاں سے القاعدہ پر ڈرون حملوں کی نگرانی کی جاتی تھی۔
رواں سال مارچ میں جب حوثی باغیوں نے پیش قدمی کی تو اس دوران اس فوجی اڈے پر بھی انھوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت ملک کے صدر منصور ہادی کو بھی وہاں سے فرار ہونا پڑا تھا۔
فضائی حصار

،تصویر کا ذریعہReuters
حکومت کی اتحادی فوج کے ترجمان نصر القائد نے بی بی سی کو بتایا کہ العند کا فوجی اڈا اب صدر ہادی کے فوجیوں کے کنٹرول میں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بتایا کہ حکومت کی حامی فوجیں اب بھی اس فوجی اڈے کے اردگرد چار کلومیٹر تک کے علاقے میں موجود باغیوں کے ساتھ لڑ رہی ہیں۔
تاہم دوسری جانب باغیوں نےفوجی اڈے کو یمنی فوج کے قبضے میں واپس لیے جانے کی اطلاع پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔
اگر اس پیش رفت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے ملک کے تیسرے بڑے شہر تعز تک زمینی رسائی حاصل کرنے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوجائے گی۔
یمن میں حکومت کی حامی فوج کو سعودی اتحاد کی جانب سے فضائی حصار مہیا کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کا موقف ہے کہ یمن میں حکومت سے لڑنے والے شیعہ حوثی باغیوں کو ایران کی مدد حاصل ہے۔ تاہم ایران اور حوثی باغی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
باغیوں کو سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حامی فوج کی مدد حاصل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بدعنوانی کے خلاف اور شمال میں ان کی قوت کے مرکز کو صدر ہادی کی حکومت کی جانب سے غیر اہم بنائے جانے کے اقدامات کے خلاف لڑ رہے ہیں۔







