یمن میں جنگ بندی کے باوجود شیلنگ کی اطلاعات

،تصویر کا ذریعہReuters
یمن میں سعودی عرب کی حامی حکومتی افواج کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی جانے والی حالیہ جنگ بندی کا آغاز ہو گیا ہے تاہم جنوبی یمن میں شیلنگ کی اطلاعات ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کی توپ سے تعز شہر کے نزدیک رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
جبکہ دارالحکومت صنعا اور وسطی یمن بظاہر پرسکون رہا۔
جنگ بندی کے نفاذ سے قبل حکومت نواز اتحاد کی جانب سے عدن کے شمال میں واقع صبر قصبے پر کنٹرول کے درمیان وہاں کے ایک اہم ہوائي اڈے سے جھڑپوں کی خبریں موصول ہوئي ہیں۔
اس سے قبل سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے کہا تھا کہ وہ انتہائی ضروری انسانی امداد کے لیے نصف شب سے فضائی حملے روک رہا ہے۔
تاہم حوثی باغیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ انھیں جب تک باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا جاتا وہ اس جنگ بندی پر عمل کے پابند نہیں ہیں۔
اس سے قبل ملنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے جنگ جاری رکھنے کی قسم کھائی ہے۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ عدن کے شمالی علاقوں کے باہر یک طرفہ جنگ بندی کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی گولی باری کے اکا دکا واقعات پیش آئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حوثی باغی حکومت نواز افواج کی پیش رفت روکنا چاہتے ہیں جنھوں نے ساحلی شہر عدن پر قبضہ کر لیا ہے۔
اس سے قبل یمن میں حوثی باغیوں نے حکومت کی جانب سے عارضی جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور اُس کے اتحادی جنگ بندی کے دوران عدن میں فوجی نقل و حرکت بڑھانا چاہتے ہیں۔
اتوار کو سرگرم حوثی کارکن حسین البخیتی نے بی بی سی اردو کے اطہر کاظمی کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان امداد کے لیے نہیں بلکہ جرائم چھپانے کے لیے ہے۔
اس سے پہلے سعودی عرب کا کہنا تھا کہ وہ پانچ دنوں کے لیے یمن میں باغیوں پر بمباری کرنا بند کر دے گا تاکہ عام شہریوں تک ضروری امداد پہنچ سکے۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق، جنگ بندی اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے نافذالعمل ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
دارالحکومت صنعا سے بات کرتے ہوئے حسین البخیتی نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے اعلان کو مسترد کرتے ہیں۔
سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دوران حوثی باغیوں کی جانب سے کی جانے والی ’عسکری نقل و حرکت‘ پر اس کے خلاف کارروائی کا حق اسے حاصل رہےگا۔
دوسری جانب حوثیوں کے سرگرم کارکن حسین البخیتی کا کہنا ہے کہ میڈیا جنگ بندی کی بات کر رہا ہے اور گذشتہ روز بمباری میں معصوم شہریوں کے قتلِ عام کو بھول گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’سعودی عرب اور اُس کے اتحادی جنگ بندی کو عدن میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور فوجی نقل و حرکت کو بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ وہ امداد کے نام پر مزید فوجی سازوسامان پہنچانا چاہتا ہے۔‘
جنگ بندی کا یہ اعلان تعز صوبے میں فضائی حملوں کے بعد ہوا ہے جہاں عام شہریوں سمیت 120 لوگوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جمعے کواتحادی فوج کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں نے بحیرۂ احمر کے شہر موخع میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا جس سے عمارتیں زمیں بوس ہو گئیں۔
ہلاک ہونے والوں میں بوڑھے اور بچے بھی شامل ہیں۔
تعز کے ایک رہائشی عبدالقادر الجنید نے بی بی سی کو بتایا کہ انتہائی بنیادی ضرورتوں کی شدید قلت ہے جن میں ڈیزل اور سبزیاں شامل ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ہمارے یہاں بجلی منقطع ہے۔ انٹرنیٹ نہیں ہے۔ ہر چیز بند ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہReuters
رضاکار امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یمن پر پابندی نے انسانی بحران کو ابتر بنا دیا ہے۔ ملک کی ڈھائی کروڑ آبادی میں سے 80 فی صد سے زیادہ افراد کو کسی نہ کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔
سعودی عرب کا کہنا ہے کہ باغی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے رہائشی علاقوں میں پناہ لے رہے ہیں۔
لیکن اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آبادی والے علاقوں میں بمباری کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
یہ غیر متوقع جنگ بندی اس وقت شروع ہوئي جب یمن کے صدر منصور ہادی نے سعودی عرب کے شاہ سلمان پر اس کے لیے زور دیا۔
اس ماہ کے آغاز میں بھی اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا جو ناکام رہی۔
یمن میں جاری جنگ کے دوران ابھی تک کم از کم 1693 شہری مارے جا چکے ہیں جبکہ 4000 زخمی ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ زیادہ تر نقصان فضائی حملوں کی وجہ سے ہوا ہے۔







