قطر نے یمن میں ’ایک ہزار‘ فوجی تعینات کر دیے

،تصویر کا ذریعہAFP
دوحہ میں الجزیرہ ٹی وی چینل کے مطابق قطر نے پہلی بار یمن میں اپنے فوجی تعینات کیے ہیں۔
ٹی وی چینل کے مطابق ایک ہزار قطری فوجیوں کو یمن کے علاقے ماریب میں تعینات کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ بکتر بند گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر بھی بھیجے گئے ہیں۔
ماریب ہی میں گذشتہ ہفتے سعودی اتحاد کے 60 فوجی مارے گئے تھے۔ حوثی قبائلیوں کے ماریب میں گولہ بارود کے ایک ذخیرے پر راکٹ حملے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے فوجیوں میں متحدہ عرب امارات کے 45، سعودی عرب کے دس اور بحرین کے پانچ فوجی شامل تھے۔
اس واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں نے یمن میں کئی مقامات پر شدید بمباری کی تھی جبکہ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ حملہ سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے ’جرائم‘ کا بدلہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں مارچ سے سعودی کمان میں ہونے والی فوجی کارروائیوں میں ساڑھے چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے دو ہزار سے زیادہ عام شہری ہیں۔
یمن میں حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد صدر منصور ہادی فرار ہو کر ساحلی شہر عدن منتقل ہو گئے تھے تاہم بعد میں حوثی باغیوں نے جب عدن کی جانب پیش قدمی شروع کی تو صدر وہاں سے فرار ہو سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔
سعودی عرب کی کمان میں قائم اتحاد کے ہزاروں فوجی یمن میں بھیجے گئے ہیں تاکہ صدر ہادی کی حکومت کو بحال کیا جا سکے۔ اتحادیوں نے جولائی میں ساحلی شہر عدن کا کنٹرول حوثی باغیوں سے لے لیا تھا اور اب ملک کے شمالی علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔



