یمن کے جنوبی شہر عدن میں ہوٹل پر راکٹ حملہ، ہلاکتوں کا خدشہ

،تصویر کا ذریعہEPA
یمن سے اطلاعات کے مطابق منگل کو جنوبی شہر عدن میں تین مختلف دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں سے ایک راکٹ حملہ اس ہوٹل پر کیا گیا جہاں وزیراعظم سمیت دیگر حکام رہائش پذیر تھے۔
ہوٹل کی عمارت میں آگ لگ گئی ہے اور ایمبولینس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں۔ تاہم ابھی ہلاکتوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ دیگر دو دھماکے متحدہ عرب امارات کے فوجیوں کی رہائش گاہ اور ہیڈ کوارٹرز پر ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس راکٹ حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں عدن کے شہر میں اس ہوٹل کے گرد کالے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
سعودی عرب کے تعاون سے حکومت کی وفادار فوج نے جولائی میں حوثی باغیوں سے یہ شہر خالی کرایا تھا اور تب سے قصر نامی ہوٹل یمن کی سرکاری انتظامیہ کا ٹھکانہ تھا۔
حکام کے مطابق یمن کے نائب صدر خالد بحاح اور دوسرے اعلیٰ حکام حملے میں محفوظ رہے جبکہ صدر منصور ہادی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بیرون ملک ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایک دستی بم ہوٹل کے دروازے پر داغا گیا، دوسرا آر پی جی دروازے کے قریب گرا جبکہ تیسرا راکٹ شہر کے بریقہ ضلعے میں گرا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹوئٹر پر ایک میڈیا نے ہوٹل کی حفاظت پر معمور گارڈز کی ہلاکتوں کا ذکر کیا ہے۔







