’اب ہنگری تارکین وطن کے لیے محفوظ نہیں رہا‘

ہنگری نے ٹرین کے ایک ڈبے کی مدد سے اس کراسنگ کو بند کر دیا جسے تارکین وطن استعمال کرتے تھے

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنہنگری نے ٹرین کے ایک ڈبے کی مدد سے اس کراسنگ کو بند کر دیا جسے تارکین وطن استعمال کرتے تھے

ہنگری نے تارکین وطن کو روکنے کے لیے سربیا کے ساتھ سرحد کو مکمل طور پر خاردار باڑ کی مدد سے بند کر دیا ہے اور اب حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس سرحد پر ہنگامی صورت حال نافذ کر دی جائے۔

ہنگری نے سربیا کے ساتھ اپنی سرحد پر نہ صرف اضافی پولیس اور فوج کے اہلکار تعینات کیے ہیں جبکہ جج بھی بھیجے گئے ہیں۔

ہنگری کے ٹی وی 2 نے جب وزیراعظم وکٹر اوربان سے سرحدی علاقے میں ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’آگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ نافذ کر دی جائے تو میں کہوں گا کہ کر دیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہنگری اب تک تارکین وطن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 20 کروڑ یورو خرچ کر چکا ہے جس میں سے یورپی یونین نے صرف 40 لاکھ یورو ادا کیے ہیں۔

ہنگری نے سرحدوں پر لوگوں کے لیے تحریری ہدایت نامے نصب کیے گئے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ کو قانونی طور پر سرحد عبور کرنی ہے تو آپ کو سرکاری سرحدی چوکیوں پر جانا ہو گا اور وہاں کاغذات کا اندارج کرنا ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

ہنگری کی جانب سے سرحدوں پر قائم کردہ داخلی مقامات پر تارکین وطن سے پوچھا جائے گا کہ انھوں نے سربیا میں پناہ کی درخواست دی ہے یا نہیں۔

اس بارے میں وزیراعظم وکٹر اوربان کا کہنا ہے کہ ’جس طرح ہم سربیا کو ایک محفوظ ملک کے طور پر دیکھتے ہیں، اگر وہاں پناہ کی درخواست نہیں دی گئی تو ہنگری میں درخواست دیے جانے پر اسے مسترد کر دیا جائے گا۔‘

ہنگری کے حکام سے نجی گفتگو سے حاصل ہونے والی معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ چند درجن، یا زیادہ سے زیادہ چند سو پناہ گزینوں کی درخواست کو ہر برس منظور کیا جائے گا۔

2014 میں ہنگری نے پناہ کی 43 ہزار درخواستوں پر صرف 260 افراد کو پناہ دی تھی۔ زیادہ تر پناہ گزین پناہ کی درخواست سے دستبردار ہو گئے اور مشرقی یورپ کے دیگر ممالک میں چلے گئے۔ ستمبر کے آغاز سے پولیس نے 35 ہزار پناہ گزینوں کا اندراج کیا ہے۔

ہنگری میں امدادی کارکنوں کے مطابق گذشتہ چند روز کے دوران انھوں نے پناہ گزینوں کی ٹانگوں کے زخموں اور چھالوں کا علاج کیا ہے کیونکہ پیر کی رات تک ہنگری پہنچنے کی کوشش میں ان پناہ گزینوں نے بلقان ریاستوں میں مسلسل پیدل سفر کیا تھا۔

ہنگری کے حالیہ اقدامات کو وزیراعظم کی’تارکین وطن کے خلاف جنگ‘ قرار دیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہ1

،تصویر کا کیپشنہنگری کے حالیہ اقدامات کو وزیراعظم کی’تارکین وطن کے خلاف جنگ‘ قرار دیا جا رہا ہے

ہنگری نے 30 ججوں سے کہا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے سربیا سے ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کے کیسوں کو نمٹانے کے لیے تیار رہیں۔

اس کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں 50 ججوں کو مقرر کیا جائے گا۔

ہنگری کے سرحدی مقام بسکے سے 14 کلومیٹر دور شہر سیگید میں جرائم کے تمام مقدمات کو اگلے حکم تک منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کاؤنٹی کورٹس اور پناہ گزینوں سے نمٹنے والے حکام کے زیرِ استعمال عمارتوں کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے سے متعلق مقدمات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یہ فیصلے ہنگری کے وزیراعظم کی’تارکین وطن کے خلاف جنگ‘ کے تحت کیے جانے والے نئے اقدامات ہیں۔

سرحد پر ہنگامی صورت حال نافذ کی جاتی ہے یا نہیں لیکن پینل کوڈ میں حالیہ ترامیم کے تحت سرحد پر نصب کی گئی رکاوٹوں کو نقصان پہنچانا اور غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنا قابل سزا جرم ہو گا اور اس کے تحت تین برس تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

تاہم سیگید میں ججوں نے کہا ہے کہ وہ پناہ کے متلاشی افراد کو سزا دینے کی بجائے ملک سے نکالنے کی سزا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ ملک میں اس وقت جیلوں میں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں۔

تارکین وطن ہنگری کے سخت اقدامات پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں اس کے بارے میں جاننا مشکل ہو گا۔

تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد جرمنی جانا چاہتی ہے جس نے انھیں پناہ دینے میں نرمی دکھائی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنتارکین وطن کی ایک بڑی تعداد جرمنی جانا چاہتی ہے جس نے انھیں پناہ دینے میں نرمی دکھائی ہے

شام کے شہر ادلب سے آنے والے ایک تارک وطن سعد پیر کو ریلوے ٹریک بند کیے جانے سے پہلے ہنگری میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مہربانی کریں، ہمیں نہ روکیں۔ ہم یہاں رکیں گے بھی نہیں، ہم دنیا بھر میں جا رہے ہیں، ہم شام میں مر رہے ہیں، ہم ہر جگہ مر رہے ہیں۔‘

انھوں نے اسی ہوٹل میں ایک ہفتہ گزارا تھا جس میں شامی بچے ایلان کردی اور ان کے اہل خانہ نے قیام کیا تھا۔ بعد میں ایلان کردی سمندر میں ڈوب گئے تھے اور ترکی کے ساحل پر اوندھے منھ پڑی ان کی لاش کی تصویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

پیر کو جیسے ہی رات ہوئی تو ٹرین کے ایک ڈبے پر نصب خاردار تاریوں کی مدد سے ریلوے کراسنگ کو بند کر دیا گیا جسے تارکین وطن ہنگری میں داخل ہونے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس وقت وہ تارکین وطن جو سرحد عبور کرنے میں ناکام رہے انھیں وہاں سے 12 کلومیٹر دور اگلے کراسنگ پوائنٹ پر جانا پڑا۔

اس سے ایک دن پہلے میں نے اس سرحدی پٹی کا دورہ کیا اور وہاں 17 ایسے مقامات کی نشاندہی کی جہاں سے تارکین وطن ہنگری میں داخل ہو سکتے ہیں۔

اگر ہنگری کی جانب سے سرحد پر نصب کردہ رکاوٹیں عبور کرنا مشکل ثابت ہوا تو ہو سکتا ہے کئی لوگ رومانیہ اور کروئیشیا کی سرحد سے ہنگری میں داخل ہوں کیونکہ یہاں پر ابھی نگرانی نہیں کی جا رہی۔

دوسری جانب پیر کو آسٹریا کے ایک جج نے اس بنیاد پر ایک افغان خاتون کو ملک بدر کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ ’ہنگری اب تارکین وطن کے لیے محفوظ ملک نہیں رہا ہے۔‘