’دو دن میں مزید 40 ہزار پناہ گزین جرمنی آ سکتے ہیں‘

میونخ کے میئر دائتر ریتر نے دیگر شہروں کے حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو جگہ دینے کے لیے آگے بڑھیں

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنمیونخ کے میئر دائتر ریتر نے دیگر شہروں کے حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو جگہ دینے کے لیے آگے بڑھیں

جرمنی میں حکام کا کہنا ہے کہ ان کے اندازوں کے مطابق آئندہ دو دن میں ملک میں مزید 40 ہزار پناہ گزین داخل ہو سکتے ہیں۔

یہ تعداد گذشتہ اختتامِ ہفتہ پر جرمنی آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد سے دگنی ہے۔

ان پناہ گزینوں میں سے زیادہ تر کے ملک کے جنوبی شہر میونخ پہنچنے کا امکان ہے۔

جرمن حکام نے پناہ گزینوں کی آمد کے انتظامات کے سلسلے میں مدد دینے کے لیے چار ہزار فوجیوں کو بھی تعینات کر دیا ہے۔

جرمنی شام اور لیبیا جیسے جنگ زدہ ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں کی پسندیدہ منزل بنا ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ جرمن حکومت کی پناہ کے طالب افراد کی رجسٹریشن کے یورپی یونین کے قانون کی معطلی بھی ہے۔

گذشتہ ماہ جرمنی کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ تمام پناہ گزینوں کی درخواستوں پر کارروائی کرے گی اس کے قطع نظر کہ وہ سب سے پہلے کس یورپی ملک میں داخل ہوئے تھے۔

اس کے بعد سے ہزاروں پناہ گزین ترکی سے بلقان اور ہنگری کے راستے جرمنی، آسٹریا اور سویڈن پہنچنے کے لیے نکل پڑے ہیں۔

گذشتہ ہفتے مشرق وسطی کے ہزاروں تارکین وطن ہنگری میں داخل ہوئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنگذشتہ ہفتے مشرق وسطی کے ہزاروں تارکین وطن ہنگری میں داخل ہوئے

جرمن شہر میونخ میں گذشتہ ہفتے پہنچنے والے پناہ گزینوں کا ریلوے سٹیشن پر استقبال کیا گیا تھا جس کے بعد پورے ہفتے پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔

میونخ کے میئر دائتر ریتر نے دیگر شہروں کے حکام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ پناہ گزینوں کو جگہ دینے کے لیے آگے بڑھیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ دیگر جرمن علاقوں کی جانب سے پناہ گزینوں کو رہائش کی فراہمی میں ناکامی ایک بڑا ’سکینڈل‘ ہے۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جرمن حکومت ایسے اقدامات پر بھی غور کر رہی ہے جن کے تحت خالی مکانات کو حکومتی تحویل میں لے کر وہاں پناہ گزینوں کو بسایا جا سکے گا۔

حکام نے شمالی جرمنی میں زیریں سیکسنی کے صوبے میں لون برگ ہیتھ کے مقام پر ایک بڑا مرکز بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے اور آسٹریا سے آنے والے پناہ گزینوں کو براہِ راست وہیں لے جایا جائے گا۔

تارکین وطن کی حمایت میں سنیچر کو یورپ بھر میں ریلیاں اور مظاہرے ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اس ’یوم عمل‘ کے دن یورپی ممالک میں لاکھوں افراد شرکت کریں کے جبکہ مختلف ممالک میں مختلف تقریبات منعقد ہوں گی۔

سربیا سے ملحق ہنگری کی سرحد پر قائم پناہ گزین کیمپ کی حالت خستہ بتائی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسربیا سے ملحق ہنگری کی سرحد پر قائم پناہ گزین کیمپ کی حالت خستہ بتائی جا رہی ہے

اس کے ساتھ اسی دن تارکین وطن کی مخالفت میں بھی مظاہروں اور ریلیوں کا امکان ہے تاہم اس میں بہت کم لوگوں کی شرکت کی امید کی جا رہی ہے۔

ادھر ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے یورپی یونین سے کہا ہے کہ وہ شام کی خانہ جنگی کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والوں کی امداد کے لیے شام کے پڑوسی ممالک کو تین ارب یورو کی مالی امداد دے۔

اوربان نے کہا کہ شام کے پڑوسی ممالک ترکی، لبنان اور اردن کو اس قسم کے پیکج کے تحت دی جانے والی امداد سے یورپ کی جانب بڑے پیمانے پر نقل مکانی کرنے والوں میں کمی آئے گي۔

خیال رہے کہ رواں سال ہنگری کو تارکین وطن کا شدید مسئلہ درپیش رہا ہے اور اسے تقریبا ڈیڑھ لاکھ تارکین وطن کے مسئلے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔

ہنگری کے حکام کے مطابق آئندہ ہفتے سے جو کوئی بھی ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہوگا اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔

جرمنی کے اخبار بلڈ کے ساتھ انٹرویو کے دوران مسٹر اوربان نے کہا یہ تین ارب یورو تمام یورپی یونین کے ممالک کے بجٹ میں ایک فیصد اضافہ کرنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے یا پھر اخراجات میں ایک فی صد کی کمی کے نتیجے میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ہنگری کے وزیر اعظم اوربان نے کہا کہ ہے آئندہ ہفتے سے ہنگری میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنہنگری کے وزیر اعظم اوربان نے کہا کہ ہے آئندہ ہفتے سے ہنگری میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تارکین وطن کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا

ا

نھوں نے کہا:’ ہمارے پاس منصوبہ ہے جسے ہم یورپی یونین کے آئندہ کے اجلاس میں پیش کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم شام کے پڑوسی ممالک کا زبردست مالی امداد کے ساتھ تعاون کریں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ لبنان، اردن اور ترکی کے تارکین وطن کو وہاں لوٹ جانا چاہیے جہاں سے وہ آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’یہ لوگ خطرات کے پیش نظر نہیں بھاگ رہے ہیں‘۔

’وہ یورپ اس لیے نہیں آئے ہیں کہ انھیں سکیورٹی چاہیے بلکہ وہ بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔یونان، مقدونیا، سربیا، ہنگری اور آسٹریا کے حالات زندگی انھیں نہیں بھاتے۔‘

جمعے کو مسٹر اوربان نے متنبہ کیا کہ 15 ستمبر کے بعد سے سخت امیگریشن قانون نافذ کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے ہزاروں کی تعداد میں ہنگری میں داخل ہونے والے تارکین وطن نے پولیس کے خلاف بغاوت کردیا تھا اور نظم و نسق قائم کرنا پڑا تھا۔

تارکین وطن کے سیلاب کو روکنے کے لیے یورپی یونین میں مذاکرات کا سلسہ ایک عرصے سے جاری ہے

،تصویر کا ذریعہscreengrab from video Kirill Skorodelov kirill.skorodelov

،تصویر کا کیپشنتارکین وطن کے سیلاب کو روکنے کے لیے یورپی یونین میں مذاکرات کا سلسہ ایک عرصے سے جاری ہے

ہنگری بھر میں حکام اور تارکین وطن کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے کیونکہ ہزاروں تارکین وطن یونان ہو کر شمالی اور مغربی یورپی ممالک جانا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب گذشتہ چند دنوں کے دوران امدادی کاموں میں سرگرم رضاکاروں نے ہنگری اور سربیا کی سرحد پر روسزکی پناہ گزین کیمپ کی ناگفتہ بہ حالت بتائی ہے۔

ہنگری کا کہنا ہے کہ وہ یورپی یونین کا رکن ہونے کے ناطے اپنے فرائض کو انجام دینے اور تمام نئے تارکین وطن کا ریجسٹریشن کرنے کا پابند ہے۔

لیکن تارکین وطن کو روکنے کی اس کی کوششوں کے ضمن میں سربیا کی سرحد پر باڑ لگانا یا احاطہ بندی کرنا اور سرحد کے تحفظ کی مشق کرنا متنازع ثابت ہوا ہے۔