ہزاروں تارکینِ وطن جرمنی کی جانب رواں دواں

جرمنی اور آسٹریا میں مزید ہزاروں تارکین وطن کی آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنجرمنی اور آسٹریا میں مزید ہزاروں تارکین وطن کی آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے

ہنگری کی جانب سے سفر پر پابندیوں میں نرمی کے بعد ہزاروں تارکین وطن نے آسٹریا کے راستے جرمنی پہنچنے کے لیے سفر شروع کر دیا ہے۔

اتوار کی صبح میونخ کے سٹیشن پر کئی ٹرینیں پہنچیں، جہاں سے پناہ گزین جرمنی کے دوسرے شہروں کا بھی رخ کر رہے ہیں۔

گذشتہ روز تارکین وطن بسوں اور ٹرین کے ذریعے اور پا پیادہ آسٹریا کی سرحد پر پہنچتے رہے جنھیں بعد میں ویانا، میونخ اور جرمنی کے دوسرے شہروں میں منتقل کیا گیا۔

دوسری طرف پاپائے روم پوپ فرانسس نے یورپ میں رومن کیتھولک فرقے کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ پناہ گزینوں کے بحران کے حل کے لیے اپنا حصہ ڈالیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہر گرجا، ہر مذہبی برادری اور یورپ میں ہر کسی پناہ گاہ کو چاہیے کہ وہ ایک خاندان کو رکھے۔‘

انھوں نے کہا کہ انسانیت کو چاہیے کہ وہ ان کی مدد کرے جو ’موت سے بھاگ‘ کر آئے ہیں، جو جنگ اور بھوک کا شکار ہیں اور بہتر زندگی کے لیے نکلے ہیں۔‘

پناہ گزین
،تصویر کا کیپشنجب ہنگری نے کچھ عرصے کے لیے ٹرینیوں بند کیں تو پناہ گزین پیدل سڑک کے راستے آسٹریا کی سرحد کی طرف چل پڑے

ان میں بہت سے تارکین وطن شام سے تعلق رکھتے ہیں۔

پولیس کے مطابق آسٹریا کے شہر نکلزڈورف جو کہ ہنگری کی سرحد کے قریب ہے دو ٹرینیوں 450 پناہ گزینوں کو لے کر ویانا کی طرف نکلی ہیں۔

آسٹریا اور جرمنی اس کثیر تعداد میں تارکین وطن کی آمد سے نمٹنے کے لیے مزید ٹرینیں فراہم کر رہے ہیں۔

ایک مشکل اور دشوار گزار سفر طے کرنے کے بعد ہنگری اور آسٹریا کے راستے پناہ گزینوں اور تارکینِ وطن کے پہلے گروپ کی جرمنی آمد کا سلسلہ سنیچر کو رات گئے مکمل ہوا جہاں انھیں ہنگامی رجسٹریشن مراکز میں لے جایا گیا۔

خانہ جنگی اور تشدد سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے والے ان تارکینِ وطن کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور یورپی یونین کے رکن ممالک ان کی کثیر تعداد کے پیش نظر کسی حل تک پہنچنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

ان تارکین وطن میں بہت سے شام سے تعلق رکھتے ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنان تارکین وطن میں بہت سے شام سے تعلق رکھتے ہیں

جرمنی کا کہنا ہے کہ اس کے یہاں رواں برس آٹھ لاکھ پناہ گزینوں کی آمد متوقع ہے۔

جرمن چانسلر آنگیلا مرکل نے کہا ہے کہ مہاجرین کی آمد سے عوام پر نہ تو ٹیکس بڑھائے جائیں گے اور نہ ہی ملک کا بجٹ متاثر ہوگا۔

خیال رہے کہ ہنگری میں کئی دن سے موجود پناہ گزین اور تارکینِ وطن وہاں خود کو پناہ کے لیے رجسٹر کروانے سے انکاری تھے جس کے بعد مغربی یورپ کے لیے عازمِ سفر ان افراد کو حکام نے ٹرین کے سفر سے روکا ہوا تھا۔

اس تعطل کی وجہ سے مشتعل افراد نے مظاہرے بھی کیے تھے اور اکثر آسٹریا کی سرحد کی جانب 175 کلومیٹر کے سفر پر پیدل روانہ ہوگئے تھے۔

تاہم پھر ہنگری کے حکام نے جمعے کی شب انھیں بسیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں یہ لوگ آسٹریا کی سرحد اور پھر وہاں سے دارالحکومت ویانا پہنچے جہاں سے اکثریت مغربی جرمنی کے شہر میونخ کے لیے روانہ ہوئی۔

خانہ جنگی اور تشدد سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے والے ان تارکینِ وطن کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنخانہ جنگی اور تشدد سے تنگ آ کر اپنا گھر بار چھوڑنے والے ان تارکینِ وطن کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے

ہنگری کی حکومت کا کہنا ہے کہ انھوں نے بسیں اس لیے روانہ کی ہیں تاکہ ملک میں نقل و حمل کا نیٹ ورک مفلوج نہ ہو تاہم ملک کی پولیس کے سربراہ نے یہ بھی کہا ہے کہ بسیں دینے کا فیصلہ صرف ایک بار کا تھا اور اب پناہ گزینوں کو اس طرح کی کوئی مدد نہیں ملےگی۔

بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل نے سنیچر کی صبح 30 افراد پر مشتمل تارکینِ وطن کے ایک گروپ کو آسٹریا اور ہنگری کے درمیان سرحد کو عبور کرتے ہوئے دیکھا اور سنیچر کی شام تک سرحد پار کر کے آسٹریا پہنچنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ گئی۔

آسٹریا کے چانسلر ورنر فیمین نے کہا ہے کہ جرمنی کی ہم منصب انگیلا میرکل سے گفتگو کے بعد دونوں ممالک نے ہنگری کی سرحد پر ہنگامی حالات کے پیش نظر تارکینِ وطن کو اپنے ممالک میں داخلے کی اجازت دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہنگری کو یورپی یونین کی جانب سے پناہ گزینوں کے کوٹے کی پاسداری کرنی چاہیے۔

اکثر پناہ گزین آسٹریا کی سرحد کی جانب 175 کلومیٹر کے سفر پر پیدل روانہ ہوگئے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشناکثر پناہ گزین آسٹریا کی سرحد کی جانب 175 کلومیٹر کے سفر پر پیدل روانہ ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ جمہوریہ چیک، پولینڈ اور سلوواکیا کے ساتھ ہنگری نے یورپی یونین کی جانب سے تمام ممالک کے لیے پناہ گزینوں کے لیے مختص کوٹے کو مسترد کر دیا ہے۔

ہنگری ان ممالک میں سے ہے جن کا خیال ہے کہ پناہ گزینوں کو رکھنے کے مستقل نظام کی وجہ سے مزید افراد یورپ پہنچنے کے لیے اپنا جان خطرے میں ڈالیں گے۔

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں جاری جنگ اور ظلم و جبر سے تنگ آکر شمال اور مغربی یورپ کے لیے عازم سفر تارکینِ وطن کے لیے ہنگری ایک اہم ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر سامنے آيا ہے۔