یورپی ممالک دو لاکھ سے زائد تارکینِ وطن کو جگہ دیں: اقوامِ متحدہ

،تصویر کا ذریعہEPA
اقوامِ متحدہ نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ’بڑے پیمانے پر رہائش کی تبدیلی کے پروگرام‘ کے تحت دو لاکھ سے زائد تارکینِ وطن کو اپنے ممالک میں جگہ دیں۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین انتونیو گوتیریش کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد پر انھیں مناسب سہولیات دی جانی چاہییں۔
انھوں نے مہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
ہنگری کی ایک ٹرین میں محصور تارکینِ وطن اور پولیس کے درمیان کشیدگی دوسرے دن بھی برقرار ہے جبکہ اسی مسئلے پر بات کرنے کے لیے ہنگری کے وزیراعظم تین یورپی ممالک کے حکام سے آج پراگ میں ملاقات کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ جمعرات کو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ کے ریلوے سٹیشن کو دو دن بند رکھنے کے بعد تارکینِ وطن کے لیے کھول دیا گیا تھا تاہم وہاں سے تارکین وطن کو لے کر روانہ ہونے والی ایک ٹرین کو بوڈاپیسٹ سے تقریباً 40 کلومیٹر دور مغرب میں بسکے کے مقام روک دیا گیا جہاں پر تارکین وطن کا سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
<link type="page"><caption> ’تارکین وطن کا بحران دراصل جرمنی کا مسئلہ ہے‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/09/150903_150903_hungry_reopen_sataion_for_migrants_sr" platform="highweb"/></link>
ٹرین میں موجود تارکینِ ٹرین چھوڑنے سے انکاری ہیں اور انھیں امید ہے کہ حکام انھیں آسٹریا کی سرحد تک پہنچا دیں گے۔
ادھر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی جانب سے شامی تارکینِ وطن کو پناہ دیے جانے کا اعلان آج متوقع ہے جبکہ آسٹریلیا کے وزیراعظم ٹونی ایبٹ کا کہنا ہےکہ تارکینِ وطن کی اموات روکنے کا واحد طریقہ کشتیوں کو روکنا ہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
برطانوی وزیراعظم جمعے کو سپین اور پرتگال میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں جس میں تارکینِ وطن کا معاملہ بھی زیرِ غور آئے گا۔
اطلاعات کے مطابق یورپی کمیشن کے حکام بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی یونان آمد کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کا جائزہ لینے کے لیے یونان کا دورہ کریں گے۔
گذشتہ روز ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان نے خبردار کیا تھا کہ یورپ آنے والے بڑی تعداد میں مسلمان پناہ گزینوں سے یورپی بر اعظم کی عیسائی بنیادوں کو خطرہ ہے: ’ہم اپنے ملک میں بڑی تعداد میں مسلمان نہیں چاہتے۔‘
جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ تارکین وطن کی یورپی ممالک میں منصفانہ تقسیم کی تجاویز تیار کریں گے۔
خیال رہے کہ جرمنی پناہ گزینوں کی بڑی تعداد کو قبول کرنے پر تیار ہے مگر دوسرے ممالک اس پر آمادہ نہیں۔
اس سے پہلے ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ہنگری بغیر اندراج کے کسی تارکِ وطن کو اپنے ملک سے نہیں نکلنے دے گا۔

خیال رہے کہ صرف جولائی میں یورپ میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کی تعداد ایک لاکھ سات ہزار تک پہنچ گئی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں سال اس کے یہاں آٹھ لاکھ پناہ گزین پہنچیں گے جوگذشتہ سال سے چار گنا زیادہ ہیں۔
افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن یورپ کا رخ کر رہے ہیں جس کے باعث یورپی یونین کے رکن ممالک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
اٹلی اور یونان کا کہنا ہے کہ ان کے ساحلوں پر بڑی تعداد میں تارکین وطن پہنچے ہیں جبکہ دیگر ممالک بشمول جرمنی بھی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم کئی ممالک بشمول برطانیہ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
تارکین وطن کے بحران کے حل کے لیے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو برسلز میں ہوگا۔







