سفر کی اجازت نہ ملنے پر تارکینِ وطن کا ہنگری میں احتجاج

ایک ہزار کے قریب پناہ گزیں کیلیتی کے سٹیشن کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج کیا

،تصویر کا ذریعہc

،تصویر کا کیپشنایک ہزار کے قریب پناہ گزیں کیلیتی کے سٹیشن کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج کیا

ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں سینکڑوں تارکینِ وطن نے پولیس کی جانب سے سفر کی اجازت نہ دیے جانے پر شہر کے مرکزی ریلوے سٹیشن کے باہر احتجاج کیا ہے۔

پولیس نے ان افراد کو سفر کرنے سے روکنے کے لیے کیلیتی نامی ریلوے سٹیشن کو بند کر دیا تھا۔

یہ تارکینِ وطن جرمنی جانے کے خواہشمند ہیں اور وہ مظاہرے کے دوران ٹرین کے ٹکٹ لہراتے رہے۔ بڈاپسٹ میں حکام کا کہنا ہے وہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ادھر جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے مطالبہ کیا ہے کہ منصفانہ طریقے سے یورپی یونین کے تمام ممالک ان تارکینِ وطن کو پناہ دیں۔

آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو ہنگری سے 3650 تارکینِ وطن دارالحکومت ویانا پہنچے ہیں اور ان میں سے بیشتر جرمنی جانا چاہتے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ہنگری میں حکام نے تارکینِ وطن کو یورپی یونین کے ان قوانین کے تحت رجسٹر کرنے سے انکار کر دیا تھا جن کے مطابق انھیں اس یورپی ملک میں پناہ کی درخواست دینی چاہیے جہاں وہ سب سے پہلے داخل ہوں۔

منگل کو ایک ہزار کے قریب پناہ گزیں کیلیتی کے سٹیشن کے باہر جمع ہوئے اور احتجاج کیا۔ اس موقع پر سٹیشن بند کر دیا گیا تاہم بعد میں پولیس نے صرف ایسے مسافروں کو سٹیشن میں داخلے کی اجازت دی جو کہ تارکینِ وطن نہیں تھے۔

اس سے قبل پیر کو ہنگری کی سرحد پر کئی گھنٹے روکے جانے کے بعد سینکڑوں پناہ گزین ٹرین کے ذریعے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پہنچے تھے۔

ان میں سے بہت سے فوراً جرمنی جانے کے لیے پھر سے ٹرین میں سوار ہو گئے۔

آسٹریا کی پولیس کے مطابق منگل کو ویانا کے ریلوے سٹیشن پر ایک ہزار تارکین وطن پہنچے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنآسٹریا کی پولیس کے مطابق منگل کو ویانا کے ریلوے سٹیشن پر ایک ہزار تارکین وطن پہنچے

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کو ہنگری میں ایک ٹرک سے 71 تارکینِ وطن کی لاشیں پائے جانے کے واقعے کے بعد سے آسٹریا کی حکومت شاہراہوں کی خصوصی نگرانی کر رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف گذشتہ مہینے ایک لاکھ 7500 تارکینِ وطن یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

گذشتہ روز آسٹریا میں حکام نے ملک کی مشرقی سرحدوں پر گاڑیوں کی تلاشی کے آپریشن کے دوران پانچ مشتبہ انسانی سمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

دوسری جانب آسٹریا میں ہزاروں افراد نے جلوسوں میں شرکت کی اور تارکینِ وطن کو بہتر حقوق دینے کا مطالبہ کیا۔

لیبیا سے یورپ جانے کے لیے کوشاں سینکڑوں افراد بحیرۂ روم میں سفر کے دوران ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

پیر کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ آسٹریا کے حکام نے ویانا جانے والی ایک ٹرین کو روکا تھا اور کہا تھا کہ جس نے بھی ہنگری میں پناہ کے لیے درخواست کر رکھی تھی اسے واپس بھیج دیا جائے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا ایسا عملی طور پر ہوا بھی یا نہیں۔

آسٹریا کی پولیس کے مطابق منگل کو ویانا کے ریلوے سٹیشن پر ایک ہزار تارکین وطن پہنچے، جنھیں لوگوں نے رضاکارانہ طور پر خوراک اور پانی دیا۔

آسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو ہنگری سے 3650 تارکینِ وطن دارالحکومت ویانا پہنچے ہیں اور ان میں سے بیشتر جرمنی جانا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہepa

،تصویر کا کیپشنآسٹریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کو ہنگری سے 3650 تارکینِ وطن دارالحکومت ویانا پہنچے ہیں اور ان میں سے بیشتر جرمنی جانا چاہتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پناہ کی تلاش میں آنے والوں کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے دو ہفتے ہوں گے کہ وہ تارکینِ وطن کا درجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کے مطابق یورپ کے مشرقی سرحدوں پر آنے والے پناہ گزینوں کی مرکزی منزل جرمنی ہو گا۔ جرمنی کا اندازہ ہے کہ رواں برس اسے پناہ کے حصول کے لیے تارکینِ وطن کی آٹھ لاکھ درخواستیں موصول ہوں گی۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب یکجہتی دکھانے کی ضرورت ہے۔

خیال رہے کہ یورپی یونین میں شامل کچھ ممالک نے یورپی یونین کی جانب سے پناہ گزینوں سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے کو اپنانے کے سلسلے میں مزاحمت کی جا رہی ہے۔

اتوار کو برطانوی سیکریٹری داخلہ ٹیریسا مے نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں پر آمدورفت کے قوانین کو سخت کرے۔

ادھر فرانس نے ہنگری کی جانب سے سربیا سے متصل سرحد پر خاردار باڑ لگانے پر مذمت کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے مطابق شام میں جاری تنازع پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی بڑی وجہ ہے۔

یونان، اٹلی اور ہنگری وہ ایسے یورپی ملک ہیں جن کو شام، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے پناہ گزینوں کی کثیر تعداد کا سامنا ہے۔

یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا اجلاس 14 ستمبر کو متوقع ہے۔