’میں یہاں امن کی تلاش میں آیا ہوں‘

ترکی کی سرحد کو چھوڑ کر پناہ کی تلاش میں یونانی جزیرے کاؤس جانے والوں کے خیال میں یہ جزیرہ ان کی منزل نہیں، بلکہ وہ صرف یورپ کے بارے میں سوچتے ہیں۔
یہ ایک براعظم ہے جسے یہ لوگ ایک موقع سمجھتے ہیں۔ بہت سے تو اسے ’اپنے خوابوں کی جگہ‘ یا جنت سمجھتے ہیں۔
اس بات کو ماننا مشکل ہے کہ جو انھوں نے کاؤس میں پایا ہے وہ ان کے ذہنوں میں بنی تصوراتی تصویر جیسا ہے۔
سورج طلوع ہوتے ہی لوگ گلیوں میں اپنی دن کا آغاز کرتے ہیں۔ وہ سمندر میں خود کو صاف کرتے ہیں اور صبح سویرے چہل قدمی کرنے والے سیاحوں کے سامنے ہی کپڑے پہنتے ہیں۔

سڑک کے کنارے اپنے بستوں کے پیچھے چھپپ کر لیٹے اور سونے والوں میں بڑے اور چھوٹے بچے شامل ہیں۔
کسی بھی نئے آنے والے کو پہچاننا نہایت ہی آسان ہے۔ کیونکہ وہ ڈوبنے سے بچانے والی جیکٹس پہنے ہوتے ہیں یا پھر ساری رات سفر کرنے کے بعد ان کی آنکھوں میں نیند دکھائی دیتی ہے۔
دنیا بھر کے اخباروں میں شائع والی تصاویر کو کاؤس کی انتظامیہ سنجیدگی سےدیکھ رہی ہے۔
اس جزیرے کی معیشت کا دارومدار سیاحت پر ہے اور بہت سے کاروباروں سے منسلک افراد نے مجھے بتایا ہے کہ انھیں تشویش ہے کہ ایسی خبروں سے مستقبل میں یہاں لوگ نہیں آئیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہی وجہ ہے کہ یہاں انتہائی سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں کہ ایک بحری جہاز کو پورٹ پر پہنجایا جائے۔ یہ بحری جہاز ایک تیرتے ہوئے پناہ گزین کیمپ کا کام کرے گا۔

تاہم یونانی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ بحری جہاز فل الحال صرف شامیوں کے لیے کھولا جائے گا کیونکہ پہلے ہی انھیں پناہ گزینوں کی درجہ بندی میں رکھا گیا ہے۔
دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والوں کو انتظامیہ نے تارکین وطن کا درجہ دیا ہوا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ 16 سالہ نعمت اللہ دیشانی اور ان کے خاندان کے لیے اس بحری جہاز پر کوئی جگہ نہیں ہو گی۔
وہ پاکستانی سرحد کے قریب واقع افغانستان کے علاقے جلال آباد سے سفر کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔
نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ ’میرے والد ایک خود کش حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، سکول جانا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے تمام گھر والے زندہ اور محفوظ رہیں۔‘
انھیں سمندر میں پھنس جانے والی کشتی میں سے سمندری محافظوں نے بچایا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
صبح کے وقت ساحل پر جہاں سے آپ ترکی کو دیکھ سکتے ہیں ایک چھوٹی کشتی دکھائی دی۔ اس پر سوار افراد کا تعلق شام سے ہے اور اپنے ملک سے جہاں تنازع جاری ہے یورپی سرحد پر پہنچنا ان کے لیے یقینی طور پر راحت کا باعث ہے۔
ان میں سے ایک نے بتایا کہ ’میں یہاں امن کی تلاش میں آیا ہوں۔ میں امن چاہتا ہوں۔‘
اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ یہ تمامپنا گزین یورپ کا سفر کیوں کر رہے ہیں یہ جاننا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر آئے ہیں۔
لیکن اس براعظم پر ان کا مستقبل غیر مستحکم ہے۔

کرس یمینجیان شام میں ٹیبل ٹینس کے چیمپین کھلاڑی تھے۔
انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’اگر میں یورپی بن جاتا ہوں تو میں ایک یورپی چیمپیئن بن سکتا ہوں۔‘
’میرے گھر والے مر چکے ہیں۔ آپ کو ایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے ایک نئی شروعات، آپ واپس نہیں جا سکتے ہیں۔‘
مایوسی کی ایسی کہانیاں ہی آگے بڑھنے کی وجہ ہیں۔







