تارکین وطن کا بحران: یونانی جزیروں پر شدید بدنظمی

جولائی 2015 میں گذشتہ سالوں کی نسبت سب سے زیادہ تارکینِ وطن یونان آئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنجولائی 2015 میں گذشتہ سالوں کی نسبت سب سے زیادہ تارکینِ وطن یونان آئے

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے یونان کے جزیروں پر تارکینِ وطن کی رہائش اور وہاں موجود نکاسی آب کے مسئلے کو ’مکمل افراتفری‘ قرار دیا ہے۔

یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ صرف رواں سال جولائی میں یونانی جزیروں پر تقریباً 50 ہزار افراد آئے۔

یونانی حکام کے مطابق ملک اس صورتحال سے نمٹنے سے قاصر تھا جس کی وجہ سے یورپی یونین سے مدد طلب کی گئ۔

خیال رہے کہ بدھ کو کشتی ڈوب جانے کی وجہ سے تقریباً 200 تارکینِ وطن کی ہلاکت کے بعد اب تک پانچ مشتبہ سمگلروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ان افراد جن میں ایک کا تعلق تیونس دو کا لیبیا اور دو کا الجیریا سے ہے کو قتل کی متعدد وارداتوں اورانسانی سمگلنگ کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔

زندہ بچ جانے والوں کے بیان کے مطابق انسانی سمگلنگ میں ملوث ان افراد نے افریقی تارکینِ وطن کے سر چاقوؤں سے کاٹے اور بیلٹ سے انھیں زدوکوپ کیا۔

بتایا گیا ہے کہ 380 کے قریب افراد کو زندہ بچا لیا گیا اور ایک روز بعد سیسلی لایا گیا۔

کالایس کی صورتحال جہاں 3000 کے قریب تارکینِ وطن موجود ہیں پر یو این ایچ سی آر نے فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یو این ایچ سی آر نے فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
،تصویر کا کیپشنیو این ایچ سی آر نے فرانس اور برطانیہ کی حکومتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ان ممالک کو اس سے „’سول ایمرجنسی‘ کی مانند نمٹنا چاہیے۔

خیال رہے کہ ایک سوڈانی باشندے کو برطانیہ اور فرانس کے درمیان ریل گاڑی کی پٹری والی سرنگ چینل ٹنّل کو پیدل پار کرنے کی کوشش کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔

ادھر آسٹریلوی حکام ٹرائس کیرخم میں واقع ملک کے مرکزی کیمپ میں مزید تارکینِ وطن کو رکھنا بند کر دیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یونان پہنچنے والے تقریباً تمام تارکینِ وطن کا تعلق جنگ زدہ ممالک شام، عراق اور افغانستان سے ہے۔

یورپ میں یو این ایچ سی آر کے ڈائریکٹر ونسنٹ کوشیل کا کہنا ہے کہ جولائی 2015 میں گذشتہ سالوں کی نسبت سب سے زیادہ تارکینِ وطن یونان آئے اور اس کی وجہ سے وہاں ان افراد کے لیے ناکافی سہولیات ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مدد کرنی چاہیے تاہم خود یونان کو اس معاملے کی سربراہی کرنی چاہیے اور تعاون کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ وہاں زیادہ تر جزیرے ایسے ہیں جہاں مزید تارکین ِ وطن کو رہنے کی جگہ میسر نہیں اور وہ بغیر چھت کے رات بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

ونسنٹ کوشیل کہتے ہیں کہ کچھ دن بعد ان تارکینِ وطن کو ایتھنز میں منتقل کر دیا جائے گا لیکن وہاں بھی ان کے لیے کوئی منتظر نہیں ہے۔

یونان کے وزیراعظم ایلکس تسیپراس نے ملک کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی بحران سے نمٹنا ان کے ملک کی استعداد سے بڑا مسئلہ ہے۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ یونان میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے بچے استحصال اور بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ایرے کیٹی کا کہنا ہے کہ اس بچے کو خطرہ لاحق ہے جو گلی میں سونے پر مجبور ہے یا وہ بچہ جو گرمی کی شدت سے موت کے منہ میں جا رہا ہے۔