بحیرۂ روم میں تارکینِ وطن کی کشتی سے 40 لاشیں برآمد

اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے مطابق رواں برس دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں

یورپی ملک اٹلی کی بحریہ کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں تارکین وطن سے بھری ہوئی کشتی پر سوار کم از کم 40 تارکین وطن ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر سوار تقریباً 320 دیگر افراد کو اس وقت بچایا گیا جب لیبیا کے قریب کھلے سمندر میں ان کی کشتی روک لی گئی۔

امدادی جہاز کے کپتان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تارکین وطن کشتی کے نچلے حصے سے ملے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید وہ کشتی کے انجن سے نکلنے والے دھویں کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ بدحال تارکین وطن میں سے رواں سال اب تک تقریباً ڈھائی لاکھ اس براعظم میں کشتی کے ذریعے داخل ہو چکے ہیں۔

مذکورہ کشتی میں بظاہر پانی داخل ہو رہا تھا اسے لیبیا کے ساحل سے 39 کلو میٹر دور اطالوی جزیرے لامپیدوسا کے جنوب میں دیکھا گیا۔

وزیر داخلہ انجلینو ایلفانو نے کہا ہے کہ’تقریباً 320 افراد کو بچا لیا گیا ہے لیکن مزید افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔ بچائے جانے والوں میں دس خواتین کے ساتھ ساتھ بچے بھی شامل ہیں۔‘

اطالوی وزیر نے کہا کہ عالمی برادری کو لیبیا میں جاری بحران کا جلد از جلد حل تلاش کرنا ہوگا ورنہ اسے بحیرۂ روم عبور کرنے کی کوشش میں تارکینِ وطن کی ہلاکتوں کے واقعات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

امدادی کاموں میں شامل بحری جہاز کے کمانڈر کا کہنا ہے کہ’جب ان کے اہلکار ماہی گیر کشتی پر سوار ہوئے تو انھوں نے انتہائی تکلیف دہ مناظر دیکھے۔‘

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ بد حال تارکین وطن افراد میں سے رواں سال اب تک تقریباً ڈھائی لاکھ اس براعظم میں کشتی کے ذریعے داخل ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیورپی حکام کا کہنا ہے کہ بد حال تارکین وطن افراد میں سے رواں سال اب تک تقریباً ڈھائی لاکھ اس براعظم میں کشتی کے ذریعے داخل ہو چکے ہیں

ماسیمو توزی نے بتایا کہ ’انھیں کشتی کے نچلے حصے میں مرنے والوں کی لاشیں ملیں، ایندھن اور انسانی فضلہ ملا۔‘

اقوام متحدہ کے مطابق رواں برس دو ہزار سے زیادہ تارکین وطن سمندر عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینالڈز کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کے تارکین وطن کے لیے سب سے خطرناک سفر بن گیا ہے۔

یونانی جزیرے کاؤس پر کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ سنیچر کو انھوں نے بھی کئی چھوٹی کشتیوں میں سے دو سو سے زائد افراد کو بچایا۔

خبر رساں ادارے روئیٹرز کے مطابق ایک بحری جہاز کو کاؤس بھیجا گیا ہے جسے 2500 پناہ گزینوں کے لیے رجسٹریشن اور رہائیشی سنٹر کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

تاہم اس جہاز کو پہنچے ہوئے 24 گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی اس پر کام شروع نہیں کیا گیا ہے۔