’پانچ لاکھ افراد لیبیا سے یورپ جانے کے لیے اکھٹے ہو رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہPress Association
یورپی جنگی بیڑوں اور کوسٹ گارڈ کے بحری جہازوں نے لیبیا کے ساحل سے دور سنیچر کو دو ہزار سے زائد تارکینِ وطن کو بچایا ہے جبکہ برطانیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانچ لاکھ افراد لیبیا شے یورپ جانے کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔
جزیرۂ مالٹا میں قائم ادارے مائگرینٹ آفشور ایڈ سٹیشن نے بتایا ہے کہ اس نے اٹلی، آئرلینڈ اور جرمنی کے بحری جہازوں کے تعاون سے اس آپریشن کو سر انجام دیا گیا ہے۔
اٹلی کے کوسٹ گارڈ نے تارکین وطن کی تعداد کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن کہا کہ وہ دوسری درجنوں کشتیوں کو امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
برطانوی شاہی بحریہ کا جہاز ایچ ایم ایس بلورک بھی لیبیا کی جانب گامزن ہے تاکہ امداد فراہم کر سکے۔
بی بی سی کے نمائندے جوناتھن بیلے جو کہ اس جہاز پر موجود ہیں کا کہنا ہے کہ بحریہ کے اہلکار اتوار کی صبح ہیلی کاپٹر اور دوسرے طیارے روانہ کریں گے تاکہ مزید تارکین کو بچایا جا سکے۔
خیال رہے کہ بلورک نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران تقریبا 1800 افراد کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ایک برطانوی بحریہ کے افسر کا کہنا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تقریبا پانچ لاکھ افراد لیبیا میں یکجا ہو رہے تاکہ بحیرۂ روم کے خطرناک سفر کے ذریعے یورپ پہنچ سکیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن جو کہ بحیرۂ روم میں موجود برطانوی شاہی بحریہ پر موجود ہیں انھوں نے یورپ کو متبہ کیا ہے کہ ’اگر لیبیا کی صورت حال کا فائدہ اٹھانے والے سمگلروں کا متحدہ طور پر مقابلہ نہ کیا گیا تو یورپ کو تارکین وطن کی بڑی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطالوی بحریہ کے جہاز دیرائدے نے سنیچر کو کم از کم 560 تارکین وطن کو بچایا ہے جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں جبکہ آئرش بحری جہاز لا ایتھنے نے کم از کم 310 افراد کو بچایا ہے۔
بحیرۂ روم کو عبور کرکے یورپ پہنچنے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں رواں سال کے پہلے پانچ مہینوں میں 10 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔
اطالوی حکومت کا اندازہ ہے کہ اس سال ان کے ساحل پر مجموعی طور پر دو لاکھ تارکین وطن اتریں گے جو کہ گذشتہ سال کے ایک لاکھ 70 ہزار کے مقابلے 30 ہزار زیادہ ہیں۔







