’دولت اسلامیہ کے جنگجو یورپ سمگل کیے جا رہے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
لیبیا کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بحیرۂ روم کے بہت سے گینگز شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو سمگل کرکے یورپ پہنچا رہے ہیں۔
لیبیا کی حکومت کے مشیر عبدالباسط ہارون نے کہا کہ سمگلرز تارکین وطن سے بھری کشتیوں میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کو چھپا کر بھیج رہے ہیں۔
انھوں نے یہ دعویٰ بعض کشتیوں کے مالکان سے ہونے والی اپنی گفتگو کی بنیاد پر کیا ہے جو جنگجوؤں کے قبضے والے شمالی افریقی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
انھوں نے یہ الزام عائد ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے انھیں 50 فی صد آمدنی کے بدلے آپریشن جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ رواں سال اب تک تقریباً 60,000 افراد نے بحیرۂ روم عبور کرکے یورپی ممالک میں آنے کی کوشش کی ہے۔
ان میں سے سفر کے دوران 1,800 سے زیادہ افرادہ ہلاک ہوگئے جو گذشتہ سال اسی مدت میں ہونے والی ہلاکت کا 20 فیصد ہے۔
بی بی سی فائیو لائیو کے انویسٹیگیٹ پروگرام کے ساتھ انٹرویو کے دوران عبدالباسط ہارون نے کہا ’دولت اسلامیہ نے اپنے لوگوں کو یورپ بھیجنے کے لیے ان کشتیوں کا استعمال کیا کیونکہ یورپی پولیس یہ نہیں جانتی کہ ان میں سے کون تارکین وطن ہیں اور کس کا تعلق دولت اسلامیہ سے ہے؟‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انھوں نے بتایا کہ جو لوگ دوسرے تارکین وطن سے علیحدہ بیٹھتے تھے وہ بحیرۂ روم عبور کرنے کے بارے میں خوفزدہ نہیں تھے اور انھوں نے کہا کہ ’وہ صد فی صد دولت اسلامیہ کے افراد تھے۔‘
عبدالباسط ہارون نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ نے ان کشتی والوں کو نقل و حمل کی اجازت دے رکھی ہے لیکن ہر سفر کی کمائی سے وہ ان کشتی والوں سے 50 فیصد حصے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ جہادی یورپ میں مستقبل کے حملے کے بارے میں بہت پہلے سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
رواں سال کے اوائل میں یورپی یونین کی سرحد کی نگرانی کرنے والی ایجنسی فرنٹیکس نے متنبہ کیا تھا ’عین ممکن ہے‘ کہ غیر ملکی جنگجو یورپ میں داخل ہونے کے لیے غیر رسمی راستوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قابض ہے اور حالیہ مہینوں کے دوران لیبیا میں سرگرم نظر آئی ہے۔
دولتِ اسلامیہ نے مارچ میں تونس میں ہونے والے حملے جس میں 22 افراد مارے گئے تھی کی ذمہ داری قبول کی تھی۔







