انسانوں کی سمگلنگ، یورپی اتحاد کو اقوامِ متحدہ کی مدد درکار

صرف 2015 میں اب تک 1,800 پناہ گزین ہلاک ہو چکے ہیں

،تصویر کا ذریعہp

،تصویر کا کیپشنصرف 2015 میں اب تک 1,800 پناہ گزین ہلاک ہو چکے ہیں

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغیرینی نے اقوامِ متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ یورپی یونین میں تارکینِ وطن کو غیر قانونی طور پر لانے والے جرائم پیشہ گروہوں کو ختم کرنے میں مدد کرے۔

انھوں نے سمگلروں کے خلاف فورس کے استعمال سے متعلق سلامتی کونسل کی ایک بریفنگ میں کہا کہ ’ہمیں انسانی جانیں بچانے کے لیے آپ کی مدد چاہیے۔‘

لیبیا نے، جہاں سے زیادہ تر سمگلرز کام کرتے ہیں، یورپی یونین کی تجاویز کی مخالفت کی ہے۔

خدشہ ہے کہ صرف 2015 میں ہی اب تک 1,800 سے زیادہ افراد اس طریقے سے ہلاک ہو چکے ہیں جو کہ 2014 کی نسبت 20 گنا زیادہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60,000 لوگ اس سال بحیرہ روم کو پار کرنےکی کوشش پہلے ہی کر چکے ہیں۔

زیادہ تر تارکینِ وطن شام، اریٹیریا، نائجیریا اور صومالیہ جیسے ممالک سے لڑائی اور غربت کی وجہ سے فرار ہو رہے ہیں۔

پیر کو نیو یارک میں اپنے خطاب میں موغیرینی نے کہا کہ یورپی اتحاد کی اولین ترجیح ہونے چاہیے کہ وہ جانیں بچائے اور سمندر میں مزید جانوں کے زیاں کو روکے۔

انھوں نے گذشتہ ماہ یورپی اتحاد کی طرف سے منظور کی گئی تجاویز کو پیش کیا۔ ان میں شامل تھا:

  • تلاش اور بچانے کی کوششوں میں تیزی
  • اگلے دو برسوں میں اس مقصد کے لیے مالی وسائل میں تین گنا اضافہ
  • سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو روکنا اور یہ جرم کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا
  • ان کی کشتیوں کی شناخت کرنا، پکڑنا اور تباہ کرنا

یورپی یونین کے لیے لیبیا کے پانیوں میں فوجی کارروائی کے قانونی جواز کے لیے اقوامِ متحدہ سے منظوری لینا ضروری ہے۔

فیڈریکا موغیرینی نے کہا کہ سمندر میں کسی بھی پکڑے جانے والے پناہ گزین یا تارکینِ وطن کو اس کی مرضی کے بغیر واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

توقع ہے کہ بدھ کو یورپی اتحاد پناہ گزینوں کو یورپی اتحاد کے رکن مالک میں بانٹنے کے لیے کسی قسم کے کوٹہ سسٹم کی تجویز پیش کرے گا۔ اس کے علاوہ یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد کے لیے قانونی طریقوں میں اضافے کے منصوبے پر بھی بات کی جائے گی تاکہ تارکینِ وطن سمگلروں کے ہاتھ نہ لگیں۔