ْ بحیرۂ روم میں 48 گھنٹوں میں ہزاروں تارکین وطن کو بچایا گیا

،تصویر کا ذریعہAP
اٹلی کے کوسٹ گارڈ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم لیبیا کے ساحلی علاقوں کے قریب گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پانچ ہزار آٹھ سو غیر قانونی تارکینِ وطن کو زندہ بچا لیا گیا ہے اور ریسکیو کیے جانے والے افراد کو اٹلی لایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں تلاش اور ریسکیو آپریشن اتوار کو پورا دن جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ ریسکیو آپریشن کے دوران 10 لاشیں بھی ملی ہیں۔
کوسٹ گارڈ حکام نے مزید بتایا ہے کہ یہ افراد اچھے موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف کشتیوں پر سوار ہو کر غیر تارکینِ وطن پر بحیرۂ روم عبور کر کے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
رواں سال کے دوران اب تک بحیرۂ روم غیر قانونی طور پر عبور کرنے کی کوشش میں 1750 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اطالوی حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو اٹلی اور فرانس کی امداد کشتیوں نے بچایا اور غیر تارکینِ وطن کو سمندر میں 27 مقامات پر ریسکیو کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال غیر قانونی طور پر سمندر عبور کرنے کی کوشش میں مرنے والوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔گذشتہ سال بحیرہ روم میں ڈوب کر 3269 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
امکان ہے کہ سمندر میں ٹھہراؤ کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے انسانی سمگلر مزید افراد کو یورپی ممالک میں بھجوانے کے لیے غیر قانونی طور پر سمندر عبور کروائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ یورپی یونین کے رہنماؤں نے بحیرۂ روم میں ایک کشتی ڈوبنے کے واقعے میں 800 افراد کی ہلاکت کے بعد خصوصی اجلاس طلب کیا تھا جس میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے بحران سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات کی منظوری دی تھی۔
اٹلی کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انسانی سمگلنگ کو اکیسوین صدی میں ’انسانی غلامی‘ کا مترادف قرار دیا تھا۔
یورپی یونین کا کہنا تھا کہ تلاش کے عمل اور ریسکیو آپریشنز کے لیے فنڈز میں تین گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سمگلروں کی کشتیوں کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی بھی حملے کیے جائیں گے۔







