لیبیا سے آنے والے 400 غیر قانونی تارکین وطن کے ڈوب جانے کا خدشہ

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سے اب تک 700 غیر قانونی تارکین وطن کو بچایا جا چکا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیورپی یونین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سے اب تک 700 غیر قانونی تارکین وطن کو بچایا جا چکا ہے

بین الاقوامی امدادی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ تقریباً 400 غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ ڈوب کر اس وقت مر گئے جب لیبیا سے آنے والی کشتی ڈوب گئی۔

سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے 144 افراد کو بچا لیا ہے اور بچائے جانے والے افراد نے اس کو ڈوبنے والوں کی تعداد بتائی ہے۔

اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے فضائی اور بحری ریسکیو آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔

امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والوں میں زیادہ تعداد نوجوان مردوں کی ہے اور ممکنہ طور پر بچے بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز سے اب تک 700 غیر قانونی تارکین وطن کو بچایا جا چکا ہے۔

بچ جانے والے افراد کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لیبیا سے روانہ ہونے والی کشتی جس میں 550 افراد سوار تھے ایک روز بعد ہی ڈوب گئی۔

اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے اب تک نو لاشیں نکالی ہیں جبکہ 144 افراد کے علاوہ کوئی بھی زندہ شخص نہیں ملا ہے۔

سیو دی چلڈرن اٹلی کے مچل پروسپیری نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کشتی میں سوار نوجوان مردوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’موسم ٹھیک ہونے کے باعث غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔‘

پچھلے سال سے یورپی یونین نے ریسکیو آپریشن میں کمی کی ہے کیونکہ کچھ کا یہ کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن کے باعث غیر قانونی تارکین وطن کو یہ حوصلہ ملتا ہے کہ وہ سفر اپنائے۔

دوسری جانب یورپی یونین کی فرونٹیکس سرحدی فورس کا کہنا ہے کہ ریسکیو کے لیے پہنچنے والی کوسٹ گارڈ کی کشتیوں کو دور رکھنے کے لیے انسانی سمگلروں نے ہوائی فائرنگ کی۔

یہ واقعہ پیر کو لیبیا سے 60 نوٹیکل میل کے فاصلے پر پیش آیا جب اٹلی اور آئس لینڈ کی کوسٹ گارڈ ایک کشتی پر سوار 250 افراد کو بچانے کے لیے پہنچیں۔