اٹلی: امیگریشن مخالف ریلی میں ہزاروں کی شرکت

تجزیہ نگاروں کے خیال میں بچت اور امیگریشن مخالف تقریر کے لیے میٹیو سالوینی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتجزیہ نگاروں کے خیال میں بچت اور امیگریشن مخالف تقریر کے لیے میٹیو سالوینی کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے

اٹلی کے دارالحکومت روم میں سیاسی جماعت ناردرن لیگ کے ہزاروں حامیوں نے امیگریشن کے خلاف ایک ریلی میں شرکت کی ہے۔

یہ ریلی امیگریشن، یورپی یونین اور اٹلی کے وزیر اعظم میٹیو رینزی کی حکومت کے خلاف نکالی گئی۔

ناردرن لیگ کے رہنما میٹیو سالوینی نے وزیر اعظم رینزی پر ملک کے مفاد پر یورپی یونین کے مفاد کو ترجیح دینے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے رومانیہ کے ٹرک ڈرائیوروں کے مسئلے، ٹیکس، بینک اور بڑی تجارتوں کے متعلق حکومت کے رویے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی دوران روم میں لیگ کے رہنما سالوینی کے خلاف بھی بڑے مظاہرے ہوئے۔

رائے عامہ کے ایک سروے کے مطابق مسٹر سالوینی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سالوینی نے کہا: ’مسئلہ رینزی نہیں ہے، رینزی تو پیادہ ہے، رینزی چند بے نام لوگوں کا ایک گونگا غلام ہے جو ہماری زندگی کو برسلز سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنریلی سے خطاب کرتے ہوئے سالوینی نے کہا: ’مسئلہ رینزی نہیں ہے، رینزی تو پیادہ ہے، رینزی چند بے نام لوگوں کا ایک گونگا غلام ہے جو ہماری زندگی کو برسلز سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں‘

ان رائے شماریوں میں انھیں مسٹر رینزی کے بعد دکھایا جا رہا ہے جبکہ بعض لوگ اسے ’دوسرا میٹیو‘ کہہ رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پہلے ناردرن ليگ سابق وزیر اعظم سیلویو برلسکونی کی مضبوط اتحادی ہوا کرتی تھی لیکن بعد میں اسے دوسرے اتحادی تلاش کرنے پڑے کیونکہ ٹیکس فراڈ کی وجہ سے برلسکونی کو پارلیمان سے باہر ہونا پڑا تھا۔

یورپی یونین، امیگریشن اور بچت کی سیاست کے خلاف سالوینی کی پرجوش مخالفت کے لیے ان کا موازنہ فرانسیسی نیشنل فرنٹ کے رہنما میرن لا پین سے کیا جا رہا ہے۔

مظاہرے کے خلاف مظاہرے کا انعقاد بائیں بازو کی جماعتوں، نسل پرستی مخالف رضاکاروں اور ہم جنس پرستوں کے حق کے لیے آواز بلند کرنے والی تنظیموں نے مل کر کیا اور یہ مظاہرہ ناردن لیگ کی ریلی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔

عوام میں امیگریشن اور بچت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعوام میں امیگریشن اور بچت کے خلاف غم و غصہ پایا جاتا ہے

بہت سے لوگوں نے بینر اٹھا رکھے تھے جس پر ’سالوینی کے ساتھ کبھی نہیں‘ لکھا تھا۔

پیزا ڈیل پوپولو پر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سالوینی نے کہا: ’مسئلہ رینزی نہیں ہے، رینزی تو پیادہ ہے، رینزی چند بے نام لوگوں کا ایک گونگا غلام ہے جو ہماری زندگی کو برسلز سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ’برسلز کے بے وقوف خادم‘ ہیں۔ انھوں نے ایک ایسے یورپ کی بات کی جس میں بینک کی اہمیت کم اور عوام اور چھوٹی تجارت کی اہمیت زیادہ ہو۔

سالوینی نے اطالوی حکومت اور یورپی یونین کو بطور خاص نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسالوینی نے اطالوی حکومت اور یورپی یونین کو بطور خاص نشانہ بنایا

انھوں نے حکومت کی امیگریشن پالیسی کو ’آفت‘ قرار دیتے ہوئے کہا: ’میں اٹلی کو بدل دینا چاہتا ہوں۔ میں اطالوی معیشت کو ایک بار پھر آگے چلنے کے قابل بنانا چاہتا ہوں اور اس کی راہ میں برسلز اور پاگل یورپی منصوبے حائل ہیں۔‘

واضح رہے کہ یہ دونوں مظاہرے مئی میں ہونے والے علاقائی انتخابات سے تقریبا دو ماہ قبل ہوئے ہیں اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سالوینی دوسرے دائیں بازو کے یورپی رہنماؤں کی راہ پر ہیں اور عوام میں امیگریشن کے خلاف بھڑکتے جذبات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔