قرض چاہیے، بیل آؤٹ نہیں: یونانی وزیرِ اعظم

،تصویر کا ذریعہAP
یونان کے وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ یونان اپنا بھاری قرض ادا نہیں کر سکتا اور اسے قرض کی ضرورت ہے نہ کہ بیل آؤٹ کی۔
پارلیمان سے خطاب میں انھوں نے ایسے اقدامات کرنے کا عہد کیا جن کی مدد سے افسر شاہی کے اخراجات کم ہوں اور کہا کہ ان کی جماعت انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے نبھائے گی۔
تسیپراس کی بائیں بازو کی کٹر جماعت سریزا نے گذشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کا انتخابی وعدہ تھا کہ وہ کفایت شعاری کے اقدامات ختم کر دے گی۔
یورپی یونین کے حکام نے تسیپراس کی جانب سے یونان کے بیل آؤٹ کی شرائط کو از سرِ نو طے کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا تھا۔
تسیپراس نے اتوار کے روز پارلیمان کو بتایا: ’بیل آؤٹ ناکام ہو چکا ہے۔ نئی حکومت کو حق نہیں ہے کہ وہ اس میں توسیع کی درخواست کرے کیوں کہ یہ بیل آؤٹ کی غلطیوں کی توسیع نہیں کر سکتی۔‘
انھوں نے کہا کہ یونان اپنا قرض ادا کرنا چاہتا ہےا: ’اگر ہمارے ساتھی بھی ایسا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ ہم اس بات کو ممکن بنانے پر بات چیت کر سکیں۔‘
یونان کے قرضوں کا حالیہ پروگرام 28 فروری کو ختم ہو رہا ہے۔ 7.2 ارب یورو کے قرض پر ابھی بات چیت ہونی ہے لیکن نئی حکومت اسے توسیع نہیں دینا چاہتی اور اس نے پہلے ہی کفایت شعاری کے منصوبے میں کٹوتیاں شروع کر دی ہیں۔
یونان کا قرض 320 ارب یورو کے برابر ہے، جو اس کی کل معاشی پیداوار کا 174 فیصد بنتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گذشتہ ماہ کے انتخابات کے دوران سریزا کو حتمی اکثریت حاصل نہیں ہو سکی تھی، اور اسے دائیں بازو کی جماعت انڈی پینڈنٹ گریکس کے ساتھ مل کر حکومت بنانا پڑی تھی۔
اتوار کو تسیپراس نے کہا کہ حکومت کا ’ناقابلِ تنسیخ فیصلہ ہے کہ انتخابات سے پہلے کیے جانے والے وعدوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ پہلی ترجیح ’بیل آؤٹ کے بڑے زخموں کو مندمل کرنا اور انسانی بحران کو حل کرنا ہے۔‘
اس میں ان لوگوں کو خوراک اور بجلی فراہم کرنا شامل ہے جو معاشی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔







